ہوم » نیوز » عالمی منظر

اسرائیل کا فلسطینی اتھارٹی کو واجب الادا 13کروڑ80لاکھ ڈالر روکنے کا فیصلہ

فلسطینیوں کے خلاف ایک اور کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکس کی مد میں واجب الادا 13 کروڑ 80 لاکھ ڈالر روکنے کا فیصلہ کیا

  • UNI
  • Last Updated: Feb 18, 2019 12:48 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اسرائیل کا فلسطینی اتھارٹی کو واجب الادا 13کروڑ80لاکھ ڈالر روکنے کا فیصلہ
الجزیرہ سے لی گئی تصویر

فلسطینیوں کے خلاف ایک اور کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو ٹیکس کی مد میں واجب الادا 13 کروڑ 80 لاکھ ڈالر روکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مذکورہ رقم تل ابیب کی جیلوں میں زیر حراست فلسطینی قیدیوں کی فلاح وبہبود کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔


اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری اعلامیہ میں الزام لگایا گیا کہ ’’فلسطینی اتھارٹی نے گزشتہ برس اتنی ہی رقم اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست قیدیوں کی رہائی، ان کے اہلخانہ کی فلاح وبہبود کے لیے خرچ کی۔‘‘خیال رہے کہ فلسطینی مارکیٹ میں درآمدات اشیا اسرائیلی بندر گاہ کے ذریعہ آتی ہے اور اس طرح تل ابیب اشیا پر ٹیکس وصول کرکے فلسطینی اتھارٹی کو ادا کرتا ہے۔اسرائیل نے گزشتہ ماہ درآمدات پر تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ ڈالر وصول کیے تھے۔



تل ابیب کا دعویٰ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے قیدیوں کی رہائی اور ان کے اہلخانہ پر خرچ ہونے کی وجہ سے اسرائیل مخالفین کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔
تل ابیب کا کہنا تھا کہ ٹیکس کی مد میں ہونے والی ادائیگی اسرائیل کے خلاف ہی استعمال ہو رہی ہے۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کے دعویٰ کومسترد کردیا اور موقف اختیار کیا کہ ’’مذکورہ ادائیگی ہرگز اسرائیل کے خلاف استعمال نہیں ہوتی بلکہ زیرحراست قیدیوں کے اہلخانہ کی فلاح وبہبود میں خرچ ہوتی ہے‘‘۔فلسطین لبریشن آرگنائیزیشن کے ایک ذمہ دار احمد مجدلانی نے بتایا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ادائیگی روکنے کا مقصد بلیک میل کرنا مقصود ہے جبکہ دونوں پہلے ہی فلسطینی امداد کے لاکھوں ڈالر روک چکے ہیں۔

First published: Feb 18, 2019 12:45 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading