உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکہ سعودی عرب کے ساتھ کسی بھی جوہری معاہدے میں کوئی رعایت نہیں دے گا : اسرائیل

    سعودی عرب کے شاہ سلمان: فائل فوٹو

    سعودی عرب کے شاہ سلمان: فائل فوٹو

    سعودی عرب کے ساتھ کسی بھی جوہری معاہدے میں امریکہ اسے کوئی رعایت نہیں دے گا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      واشنگٹن۔اسرائیل کے وزیر توانائی يو وال اسٹینٹزنے ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ کسی بھی جوہری معاہدے میں امریکہ اسے کوئی رعایت نہیں دے گا۔سعودی عرب نے یورینیم کی افزودگی یا کسی اور قسم کے جوہری ایندھن کی پروسیسنگ کے لئے امریکہ سے رعایت دینے کی اپیل کی ہے لیکن اسرائیل نے اس پر کافی احتجاج کیا ہے۔

      اسٹینٹز نے منگل کو ایک انٹرویو میں کہا’’اگر آپ کسی ایک ملک کو یورینیم کی افزودگی یا ایندھن کی پروسیسنگ کی اجازت دے دیتے ہیں تو دنیا کے دیگر ممالک کو یہ بتانا کافی مشکل ہوگا کہ آپ ایسا کوئی کام نہیں کریں‘‘۔ وہ ان دنوں عالمی گیس کانفرنس میں حصہ لینے کے لئے واشنگٹن کے دورے پر ہیں اور اس ہفتے انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر افسران سے ملاقات کی ۔ دراصل سعودی عرب نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ دو جوہری پلانٹس کی تعمیر میں اس کوتکنیکی مدد فراہم کرے۔

      اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن مغربی ایشیا میں ایرانی تسلط کو لے کر دونوں کے مشترکہ تشویشات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ سعودی عرب کو معیارات میں رعایت کی اجازت دے دیتا ہے تو ایسا کر کے وہ جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور انہیں امید ہے کہ امریکہ اسرائیل کے تحفظات پر توجہ دے گا۔ اس معاملہ میں سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اگر ایٹمی ری ایکٹروں کی تعمیر میں اس کوامریکی امداد نہیں ملی تو وہ دیگر بین الاقوامی ساتھیوں سے مدد لے سکتا ہے اور اس سمت میں وہ روسی، چینی، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک کی کمپنیوں سے بات چیت کر رہا ہے۔
      First published: