اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اسرائیل نے غزہ پٹی میں کئی مقامات پر کی بمباری ، مغربی کنارہ میں بڑھی کشیدگی

    اسرائیل نے غزہ پٹی میں کئی مقامات پر کی بمباری ، مغربی کنارہ میں بڑھی کشیدگی

    اسرائیل نے غزہ پٹی میں کئی مقامات پر کی بمباری ، مغربی کنارہ میں بڑھی کشیدگی

    Israel Palestine Conflict : فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے راکیٹ داغے جانے کے بعد اسرائیلی طیاروں نے اتوار علی الصبح غزہ پٹی میں کئی مقامات پر ہوائی حملہ کیا ، جو مغربی کنارہ میں کشیدگی میں اضافہ کا اشارہ ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Palestine
    • Share this:
      غزہ : فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے راکیٹ داغے جانے کے بعد اسرائیلی طیاروں نے اتوار علی الصبح غزہ پٹی میں کئی مقامات پر ہوائی حملہ کیا ، جو مغربی کنارہ میں کشیدگی میں اضافہ کا اشارہ ہے ۔ اسرائیل کی فوج نے کہا کہ ہوائی حملوں میں ایک ہتھیار بنانے والے سینٹر اور حماس سے وابستہ ایک زیر زمیں سرنگ کو نشانہ بنایا گیا ۔ بتادیں کہ سال 2007 سے فلسطین کے غزہ علاقہ پر حماس کا کنٹرول ہے ۔

      قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کی شام کئے گئے راکیٹ حملہ کی ذمہ داری کسی فلسطینی گروپ نے نہیں لی ہے ، جو غزہ ۔ اسرائیل باڑ کے پاس ایک کھلے علاقہ میں گرا ۔ اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان اگست میں تین دن تک چلی جھڑپ کے بعد سے سرحد پر امن تھا ۔ بتادیں کہ حماس کو ہتھیار جمع کرنے سے روکنے کیلئے اسرائیل اور مصر نے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے ۔

      یہ بھی پڑھئے: حجاب مخالف احتجاج کے آگے جھکی ایران سرکار، مورل پولیس کو کیا ختم


      یہ بھی پڑھئے: پاکستان: سیکیورٹی فورسز نے وزیرستان میں خطرناک دہشت گرد کو کیا ہلاک


      خیال رہے کہ اسرائیل کے قبضہ والے مغربی کنارہ میں اس سے پہلے پندرہ نومبر کو ایک فلسطینی شخص نے اسرائیل کے دو لوگوں کا چاقو مار کر قتل کردیا تھا اور پھر فرار ہونے کی کوشش میں ایک کار چرالی تھی اور پاس کے ہائی پر کار سے دوسری گاڑی کو ٹکر ماردی تھی، جس میں تیسرے اسرائیلی شخص کی موت ہوگئی تھی ۔

      اس کے بعد اسرائیل کے ایک فوجی نے فلسطینی شخص کو گولی ماردی ، جب وہ کار کے واقعہ کا شکار ہونے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا ۔ یہ مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل ۔ فلسطین کے درمیان تشدد کا ایک نیا معاملہ تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: