ہوم » نیوز » عالمی منظر

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہمارے پاس امن کا بہترین موقع ہے، اسے کھونا نہیں چاہئے

گزشتہ 11 روز سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری جنگ کو عالمی دباؤ دنیا کی کم ہوتی حمایت کے بعدجنگ بندی کا اعلان کرنے والا اسرائیل نے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس امن کا بہترین موقع ہے، اسے کھونا نہیں چاہیے۔

  • Share this:
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہمارے پاس امن کا بہترین موقع ہے، اسے کھونا نہیں چاہئے
اسرائیل نے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس امن کا بہترین موقع ہے، اسے کھونا نہیں چاہیے۔

تل ابیب: گزشتہ 11 روز سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری جنگ کو عالمی دباؤ دنیا کی کم ہوتی حمایت کے بعدجنگ بندی کا اعلان کرنے والا اسرائیل نے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس امن کا بہترین موقع ہے، اسے کھونا نہیں چاہیے۔ یہ بات میڈیا کے ذرائع نے بتائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز (Israeli Defense Chief Benny Gantz) نے کہا ہے کہ اسرائیل کے پاس امن کا بہترین موقع ہے، اسے کھونا نہیں چاہیے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے وزیراعظم نیتن یاھو کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اسرائیل امن چاہتا ہے مگر ملک کی سلامتی ہر چیز پر مقدم ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا کہ غزہ میں فوجی آپریشن امن عمل کی بنیاد بننا چاہیے اور بار بار کی جنگ کو روکنا کا ذریعہ ہونا چاہیے۔


انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی کو بنیادی ڈھانچے، تعلیمی اور صحت کے شعبوں میں ترقی کرنا ہوگی۔ پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاہو نے غزہ میں حماس کے بنیادی ڈھانچے اور 100 کلو میٹر سرنگوں کی تباہی کا بھی دعویٰ کیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاھو نے غزہ میں فوجی کارروائیوں کے بارے میں میڈیا کی تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی حمایت حاصل ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے بارے میں امریکی صدر جو بائیڈن سے 6 بار بات کی۔نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں حماس کی سرنگوں کو نشانہ بنایا تھا، حماس نے ان سرنگوں کی تعمیر میں بہت زیادہ پیسہ خرچ کیا تھا اور کئی سال صرف کیے تھے۔ ہم نے حماس کی کئی سال کی محنت ضائع کرکے اسے ماضی میں دھکیل دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے جمعہ کے روز ایک بیان میں غزہ کی پٹی میں جاری فوجی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے حماس کی صلاحیتوں کو ختم کرنے اور حماس کو ماضی میں دھکیلنے کا دعویٰ کیا۔ خیال رہے کہ غزہ پٹی پر اسرائیلی فوج کی 11 روز تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب فریقین نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔


واضح رہے کہ مصر اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوششیں کررہا تھا۔اس کے ایک عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیلی حکومت نے مصرکو غزہ میں اپنی فوجی کارروائی ختم کرنے سے متعلق فیصلے سے مطلع کردیا ہے۔اس ضمن میں اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد فیصلے کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔اس سے پہلے مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے امریکی صدرجو بائیڈن سے فون پر گفتگو کی تھی اور ان سے فلسطینی علاقوں میں تشدد کو روکنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ادھر واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ”جنگ بندی کے لیے تحریک واضح طور پر حوصلہ افزا ہے۔امریکہ تنازع کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوششیں کررہا ہے۔“

غزہ میں اسرائیل کے گذشتہ 11 روز سے جاری فضائی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 230 ہوگئی ہے۔ اسرائیلی طیاروں کی تباہ کن بمباری کے نتیجے میں غزہ شہر کا انفرااسٹرکچر، سڑکیں اور عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں اوروہاں انسانی صورت حال ابتر ہوچکی ہے۔ادھراسرائیل میں غزہ سے راکٹ حملوں میں 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔قبل ازیں فلسطین اور اسرائیل کے معاملے پر اقوام متحدہ کا جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ یہ اجلاس ترکی، فلسطین، پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر طلب گیا تھا۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے عوام کی آواز خاموش نہیں کرائی جاسکتی۔فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے خون ریزی کا سلسلہ جاری ہے، لوگوں کی ایک تعداد جاں بحق ہوچکی ہے، شہریوں کی کھانا، پانی اور صحت کی سہولیات تک رسائی نہیں۔انہوں نے کہا کہ 'ابھی جب ہم بات کر رہے ہیں تو وہاں فلسطین میں لوگوں کو بلا تفریق مارا جا رہا ہے، غزہ کے ہر گھر میں موت کا غم ہے، جہاں اندھیرا ہے اور صرف اسرائیلی دھماکوں کا راج ہے'۔

وہیں اس خونریزی کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کردی گئی ہیں اور جرمنی نے کہا کہ اس کے اعلیٰ سفارت کار جمعرات کے روز اسرائیل سے مذاکرات کے لیے جارہے ہیں ۔ زیر نظر تصویر میں غزہ میں اسرائیلی حملہ میں تباہ ہوئی ایک کار کے ارد گرد مقامی لوگ ۔ (Photo AP)
وہیں اس خونریزی کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کردی گئی ہیں اور جرمنی نے کہا کہ اس کے اعلیٰ سفارت کار جمعرات کے روز اسرائیل سے مذاکرات کے لیے جارہے ہیں ۔ زیر نظر تصویر میں غزہ میں اسرائیلی حملہ میں تباہ ہوئی ایک کار کے ارد گرد مقامی لوگ ۔ (Photo AP)


شاہ محمود قریشی نے اسرائیلی بمباری سے الجزیرہ اور اے پی سمیت دیگر میڈیا اداروں کے دفاتر تباہ کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہے فلسطین جہاں اسرائیل پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے معصوم فلسطینیوں کونشانہ بناتا ہے، دہشت زدہ کرتا ہے، یہاں تک کہ میڈیا کو خاموش کرادیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی وقت ہے کہ کہاجائے اب بہت ہوگیا، فلسطین کے عوام کی آواز کوخاموش کرایا جاسکتا ہے اور نہ کروایا جاسکے گا، ہم اسلامی دنیا کے نمائندے یہاں ان کی بات اور ان کے لیے بات کر نے آئے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ 'خوف ناک' بات ہے سلامتی کونسل عالمی امن وسلامتی کے قیام کی اپنی بنیادی ذمہ داری انجام دینے کے قابل نہیں اور یہاں تک کہ جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں واضح ہونا چاہیے کہ نہتے فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان طاقت کے توازن کا شائبہ تک نہیں ہے، فلسطین کے پاس نہ کوئی بری فوج ہے، نہ بحریہ ہے اور نہ ہی کوئی فضائیہ ہے، دوسری جانب اسرائیل ہے جو دنیا کی طاقت ور ترین فوجی قوت کا حامل ہے، یہ جنگ قابض فوج اورمقبوضہ عوام کے درمیان ہے۔وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تناظر میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نومبر 1970 میں جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 2649 میں اسی ایوان نے نوآبادیاتی اور غیرملکی جبر و تسلط میں رہنے والے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت اور اس کی بحالی کی جدوجہد میں ہر قسم کے دستیاب ذرائع استعمال کرنے کو جائز تسلیم کیا گیا ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: May 22, 2021 10:42 AM IST