ہوم » نیوز » عالمی منظر

اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں دو بچوں سمیت 6 فلسطینی شہید اور 210 افراد زخمی

غزہ کی پٹی کی سرحد کے نزدیک احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوجیوں نے بربریت کا مظاہرہ کیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 29, 2018 01:08 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں دو بچوں سمیت 6 فلسطینی شہید اور 210 افراد زخمی
اسرائیلی فوج نے 6 فلسطینیوں کو شہید کردیا۔

اسلام آباد: غزہ کی پٹی کی سرحد کے نزدیک احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ میں دو بچے سمیت 6 فلسطینی شہری ہلاک ہوگئے اور اس دوران جھڑپ میں 210 افراد زخمی ہوگئے۔


اخبار 'ڈان' نے ہفتے کے روزوزارت کے ترجمان اشرف القدرہ کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے جنوبی علاقے میں خان یونس میں سرحد کے نزدیک فائرنگ میں 12سالہ ناصرمصبح دم توڑگیا جبکہ وسطی غزہ کےعلاقےالبریج میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مظاہرین پربراہ راست فائرنگ کے نتیجے میں 14 سالہ محمد الہوم ہلاک ھوگیا۔


 

رپورٹ کے مطابق سرحدی علاقوں میں مظاہرے کے دوران اسرائیلی فوجی فائرنگ میں 4 دیگرافراد بھی ہلاک ہوئے۔ اس کےعلاوہ، جھڑپوں کے دوران 210 افراد زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق مختلف مقامات پر 20 ہزارسے زائد مظاہرین سرحد کے مختلف مقامات پر جمع ہوئے تھے۔ مختلف جگہوں پر جمع ہونے والے مظاہرین نے فوج پر دستی بموں اور دیگر دھماکہ خیزآلات سےحملہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:    اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں ایک فلسطینی کی موت، 54 دیگر زخمی

فلسطینی 30 مارچ سےغزہ کے سرحدی علاقے کے قریب ہفتہ وار مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس کے دوران اسرائیلی فوجی فائرنگ میں 193 فلسطینی شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ مظاہرہ کے دوران ان میں سے اکثرلوگ مظاہرہ کے دوران جبکہ بعض لوگ ہوائی حملے اورٹینک کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فوج نے روایتی طریقہ کارپرعمل کرتے ہوئے مظاہرین کومنتشرکرنے کے لئے فائرنگ کی تاہم ہلاکتوں کے حوالے سے کسی قسم کی بات کرنے سے انکار کردیا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی قبضے اورمقامی افراد کو بے دخل کرنے کے 70 برس پورے ہونے کے سلسلے میں فلسطینی عوام 30 مارچ سے مستقل ہفتہ واربنیادوں پراحتجاج کررہے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں:     امریکہ نے فلسطینیوں کی امداد میں مزید کٹوتی کردی
اسرائیل کی جانب سے حماس پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ جان بوجھ کرکے احتجاج میں مظاہرین کو اشتعال دلاتے ہیں، تاہم حماس کی جانب سے مستقل اس بات کا انکار کیا جاتا رہا ہے۔


دوسری جانب مظاہرے کے منتظمین کا کہنا تھا کہ ان مظاہروں کا مقصد اس زمین کی واپسی اوراپنا حق مانگنا ہے، جسے 1948 کی جنگ کے بعد ہم نے کھودیا تھا اوراسرائیل کا وجودعمل میں آیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے جب 1948 میں فلسطین کے وسیع علاقے میں قبضہ کیا گیا تو متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد غزہ پہنچی تھی جو موجودہ اسرائیل میں اپنی جائیدادیں اورزمینیں چھوڑکرہجرت کرنے پرمجبورہوئے تھے۔


یہ بھی پڑھیں:    اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ پٹی میں امن بحالی کے سلسلہ میں اتفاق رائے
First published: Sep 29, 2018 01:08 PM IST