ہوم » نیوز » عالمی منظر

استنبول ہوائی اڈے پر خود کش حملے میں 36 افراد ہلاک، 150 زخمی

استنبول ۔ ترکی میں استنبول کے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے کے داخلی دروازے پرتین خود کش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑانے سے پہلے فائرنگ شروع کر دی جس سے 31 افراد ہلاک اور تقریبا 147 زخمی ہو گئے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 29, 2016 11:28 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
استنبول ہوائی اڈے پر خود کش حملے میں 36  افراد ہلاک، 150 زخمی
استنبول ۔ ترکی میں استنبول کے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے کے داخلی دروازے پرتین خود کش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑانے سے پہلے فائرنگ شروع کر دی جس سے 31 افراد ہلاک اور تقریبا 147 زخمی ہو گئے۔

استنبول ۔ ترکی میں استنبول کے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے کے داخلی دروازے پرتین خود کش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑانے سے پہلے فائرنگ شروع کر دی جس سے 31 افراد ہلاک اور تقریبا 147 زخمی ہو گئے۔ مقامی ٹیلی ویژن چینل نے ملک کے وزیر انصاف باقر بوزدق کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد بتاتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں حملہ آوروں نے كلاشنكوف رائفل کا استعمال کیا ہے۔


اس سے پہلے استنبول کے گورنر واسپ ساهن نے کہا تھا کہ اس حملے میں 28 افراد ہلاک ہوئے جبکہ تقریبا 60 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکام سے ملی اطلاع کے مطابق تین خودکش حملہ آوروں نے اس حملے کو انجام دیا ہے۔ ترکی کے ایک افسر نے کہا کہ پولیس نے اتا ترک ہوائی اڈے پرداخلہ ہال کی حفاظتی چوکی کے پاس دو حملہ آوروں کو روکنے کے لئے گولیاں چلائیں لیکن دونوں نے خود کو اڑا لیا۔


ترکی کے صدر طیب ارودغان نے کہا کہ استنبول کے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے پر خود کش حملے میں معصوم لوگوں کو قتل کر کے ترکی کی طاقت کو کم کر کے نظر انداز کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا ’’یہ واضح ہے کہ یہ حملہ کسی نتیجہ کو حاصل کرنے کے مقصد سے نہیں کیا گیا ہے، بلکہ معصوم لوگوں کا قتل کر کے ملک کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش ہے‘‘۔ مسٹر ارودغان نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ حملے کے پیش نظر دہشت گرد گروپوں کے خلاف دنیا ایک ’’فیصلہ کن رخ‘‘ اختیار کرے گی۔


حملے کے وقت داخلہ ہال میں اپنے ایک مہمان کے آنے کا انتظار کر نے والے علی تيكن نے کہا ’’یہ بہت بڑا دھماکہ تھا، اتنا تیز کہ چھت کا حصہ نیچے گر گیا ہے۔ ہوائی اڈے کے اندر کا نظارہ اتنا خوفناک ہے کہ آپ اسے پہچان نہیں سکتے، یہ بہت بڑا نقصان ہے‘‘۔ ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری کسی بھی گروہ نے نہیں لی ہے۔ ڈوگن خبر رساں ایجنسی نے پولیس کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ 


گزشتہ مارچ میں بروسلز ایئرپورٹ پر ہونے والے خود کش حملوں اور اس واقعہ میں کافی مماثلت دیکھی جا رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بروسلز ایئرپورٹ پر اسلامک اسٹیٹ کے خود کش حملہ آوروں کے حملے میں 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے کچھ وقفے کےبعد پر بوسیلس میں ہی میٹرو ٹرین میں ایسے حملے میں بھی 16 جانیں گئی تھیں۔ حملے کے بعد طیاروں کی نقل و حرکت روک دی گئی ہے اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اتا ترک ہوائی اڈے سے دور رہیں۔ سرکاری ایجنسیوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایئر پورٹ پر موجود اپنے خاندان کے لوگوں سے رابطہ کریں۔اس کے علاوہ ایئر پورٹ پر حملے کے بعد پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور یہاں اترنے والی پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی جانب موڑا جا رہا ہے۔


حملے کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصويروں میں ہوائی اڈے کی عمارتوں کے اندر اور باہر بہت سے زخمیوں کو زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ سال حکومت اور کرد شدت پسندوں کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ترکی میں حالیہ مہینوں میں کئی حملے ہوئے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کے فوری بعد زخمیوں کو وہاں کھڑی ٹیکسیوں کے ذریعے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ استنبول کا کمال اتاترک ایئر پورٹ یورپ کا تیسرا مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے اور گذشتہ برس چھ کروڑ دس لاکھ مسافروں نے اسے استعمال کیا۔ ترکی میں کرد علیحدگی پسندوں اور حکومت کے درمیان کشیدگی اور ہمسایہ ملک شام میں جاری تنازع کی وجہ سے پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔


رواں ماہ ہی استنبول کے وسطی علاقے میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ترکی میں گذشتہ برس سے اب تک جتنے دھماکے ہوئے ہیں ان کی ذمہ داری یا تو کرد ملیشیا یا پھر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ قبول کرتی رہی ہے۔

First published: Jun 29, 2016 09:31 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading