உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جیش محمد کی ناپاک سازش، کشمیر میں دہشت پھیلانے کے لئے مسعود اظہر نے مانگا طالبان سے ساتھ

    میڈیا رپورٹ کے مطابق، کچھ دنوں پہلے مسعود اظہر نے قندھار جاکر طالبان سے کشمیرمیں سرگرمیاں بڑھانے کے لئے تعاون مانگا تھا۔ مسعود اظہر 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹرمائنڈ ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق، کچھ دنوں پہلے مسعود اظہر نے قندھار جاکر طالبان سے کشمیرمیں سرگرمیاں بڑھانے کے لئے تعاون مانگا تھا۔ مسعود اظہر 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹرمائنڈ ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق، کچھ دنوں پہلے مسعود اظہر نے قندھار جاکر طالبان سے کشمیرمیں سرگرمیاں بڑھانے کے لئے تعاون مانگا تھا۔ مسعود اظہر 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹرمائنڈ ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستانی دہشت گرد تنظیم جیش محمد (Jaish-e-Mohammed) کا سرغنہ مسعود اظہر اب طالبان کے سہارے کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیاں بڑھانے کے فراق میں ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، کچھ دنوں پہلے مسعود اظہر (Masood Azhar) نے قندھار جاکر طالبان سے کشمیر میں سرگرمیاں بڑھانے کے لئے تعاون مانگا تھا۔ مسعود اظہر 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹرمائنڈ ہے۔

      مسعود اظہر نے جن طالبانی لیڈروں سے ملاقات کی، ان میں عبدالغنی برادر بھی شامل ہیں۔ عبدالغنی برادر طالبان کے سیاسی گروپ کے ہیڈ ہیں۔ واضح رہے کہ مسعود اظہر نے کابل پر قبضے کے ٹھیک پہلے طالبان کی تعریف کی تھی۔ ان سے کہا تھا کہ طالبان نے امریکہ حامی افغان حکومت کو گرا دیا ہے۔ ’منزل کی طرف‘ ہیڈ لائن سے لکھے ایک کالم میں کہا تھا کہ مجاہدین کی جیت خوشی پیدا کرنے والی ہے۔

      پاک مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد تنظیم کی ریلیاں

      اس کے علاوہ جیش محمد کے کمانڈروں نے طالبان کی جیت پر ایک دوسرے کو مبارکباد بھی دی تھیں۔ دہشت گرد تنظیم لشکرطیبہ اور جیش محمد نے پاک مقبوضہ کشمیر میں طالبان کی حمایت میں ریلی بھی نکالی تھی۔ ریلی کا ویڈیو وائرل ہوا تھا اوراس میں دہشت گرد طالبان کی جیت پر خوشیاں مناتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد کے کمانڈروں نے ریلیوں کو خطاب بھی کیا۔

      کہہ چکا ہے طالبان- کشمیر دو طرفہ موضوع

      افغانستان پر جیت کے کچھ دن بعد ہی طالبان نے کشمیر پر اپنا رخ ’واضح‘ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسے ہندوستان اور پاکستان کا ایک دوطرفہ اور داخلی موضوع مانتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے کہا تھا کہ ان کی توجہ کشمیر پر بالکل نہیں ہے۔

      پاکستان حکومت بھی طالبان کی حمایت میں

      صرف دہشت گرد تنظیم ہی نہیں بلکہ پاکستان حکومت نے بھی طالبان کے اقتدار پر خوشیاں ظاہر کی ہیں۔ طالبان کی جیت پر پاکستان اپنی خوشی چھپا نہیں پا رہا ہے اور خود وزیر اعظم عمران خان تک نے اس کی تعریف کرڈالی تھی۔ عمران خان نے یہاں تک کہہ ڈالا تھا کہ افغان لوگوں نے ’داستاں کی زنجیریں توڑ دی‘ ہیں۔ پاکستانی اخبار ’دی ڈان‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا تھا کہ کس طرح افغانستان میں غیرملکی ثقافت تھوپے جانے کے سبب ’ذہنی غلامی‘ پھیلی ہوئی تھی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: