உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    او آئی سی میں Kashmir پربیان دے کرکیا غلطی کرگئے تھے چینی وزیرخارجہ؟ جے شنکر نے کہی یہ بڑی بات

    ہندوستان نے جمعہ کے روز چین سے واضح طور پر کہا کہ مشرقی لداخ میں جدوجہد کے باقی نکات سے پیچھے ہٹنے کے عمل کو تیزی سے پورا کیا جائے، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ اگر سرحدی علاقوں میں میں صورتحال ’غیر معمولی‘ ہوگی تب دوطرفہ تعلقات ’عام‘ نہیں ہوسکتے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے ’کھلے اور واضح‘ طور پر بات چیت کے بعد وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ عام تعلقات کی بحالی کے لئے سرحدی علاقوں میں امن وامان بحال ہونا ضروری ہے۔

    ہندوستان نے جمعہ کے روز چین سے واضح طور پر کہا کہ مشرقی لداخ میں جدوجہد کے باقی نکات سے پیچھے ہٹنے کے عمل کو تیزی سے پورا کیا جائے، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ اگر سرحدی علاقوں میں میں صورتحال ’غیر معمولی‘ ہوگی تب دوطرفہ تعلقات ’عام‘ نہیں ہوسکتے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے ’کھلے اور واضح‘ طور پر بات چیت کے بعد وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ عام تعلقات کی بحالی کے لئے سرحدی علاقوں میں امن وامان بحال ہونا ضروری ہے۔

    ہندوستان نے جمعہ کے روز چین سے واضح طور پر کہا کہ مشرقی لداخ میں جدوجہد کے باقی نکات سے پیچھے ہٹنے کے عمل کو تیزی سے پورا کیا جائے، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ اگر سرحدی علاقوں میں میں صورتحال ’غیر معمولی‘ ہوگی تب دوطرفہ تعلقات ’عام‘ نہیں ہوسکتے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے ’کھلے اور واضح‘ طور پر بات چیت کے بعد وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ عام تعلقات کی بحالی کے لئے سرحدی علاقوں میں امن وامان بحال ہونا ضروری ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستان نے جمعہ کے روز چین سے واضح طور پر کہا ہے کہ مشرقی لداخ میں جدوجہد کے باقی نکات سے پیچھے ہٹنے کے عمل کو تیزی سے پورا کیا جائے، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ اگر سرحدی علاقوں میں میں صورتحال ’غیر معمولی‘ ہوگی تب دوطرفہ تعلقات ’عام‘ نہیں ہوسکتے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے ’کھلے اور واضح‘ طور پر بات چیت کے بعد وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ عام تعلقات کی بحالی کے لئے سرحدی علاقوں میں امن وامان بحال ہونا ضروری ہے۔

      صحافیوں سے بات چیت کے دوران وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے جب جموں وکشمیر سے متعلق چین کے حالیہ بیان پر سوال پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے متعلق ہندوستان نے اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔ دراصل، ہندوستان آنے سے پہلے پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک کی 57 رکنی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (OIC) کے اجلاس میں چین نے کہا تھا کہ ’کشمیر کے موضوع پر وہ مسلم ممالک کے ساتھ کھڑے ہیں‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Yogi Adityanath کی دوسری اننگ: یوگی کابینہ میں BJP نے دی ہر طبقے کو نمائندگی

      OIC میں چین کے بیان پر ہندوستان نے کیا کہا؟

      او آئی سی اجلاس میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا، ’ہاں یہ سوال آیا تھا۔ میں نے اس کا ذکر کیا۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ ہمیں وہ بیان قابل اعتراض کیوں لگا۔ یہ ایک ایسا موضوع تھا، جس پر کچھ دیر تک بحث ہوئی۔ ایک بڑا پس منظر بھی تھا‘۔ انہوں نے مزید کہا، ’میں نے بتایا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ چین ہندوستان کے تعلقات میں ایک آزاد پالیسی پر عمل کرے گا اور اپنی پالیسیوں کو دیگر ممالک اور دیگر تعلقات سے متاثر نہیں ہونے دے گا۔

      جے شنکر اور وانگ یی کے درمیان تقریباً تین گھنٹے تک ہوئی بات چیت

      جے شنکر نے ہندوستان کے سفر پر آئے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے تک ہوئے تبادلہ خیال کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا، ’اگر ہم دونوں تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے پابند عہد ہیں، تب اس عزم کی مکمل واپسی کے عمل کے بارے میں جاری بات چیت میں مکمل اظہار خیال کیا جانا چاہئے۔" انہوں نے کہا کہ مشرقی لداخ کو لے کر ہندوستان اور چین کے درمیان موجودہ حالات کے پیش نظر ‘کام رفتار پر ہے‘۔ حالانکہ اس کی رفتار مطلوبہ سطح کے مقابلے  سست ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: