ہوم » نیوز » عالمی منظر

کشمیر مسئلہ پر ہندستان سے اقوام عالم کے اتفاق پر عمران خان کی بوکھلاہٹ، کہی یہ بڑی بات

وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہندستان جہاں ایک بڑی منڈی ہے، وہیں بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لئے اُن کے تجارتی مفادات زیادہ اہم ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 18, 2020 09:13 AM IST
  • Share this:
کشمیر مسئلہ پر ہندستان سے اقوام عالم کے اتفاق پر عمران خان کی بوکھلاہٹ، کہی یہ بڑی بات
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان۔(فائل فوٹو، تصویر:نیوز18)۔

نئی دہلی۔ ایک ایسے وقت میں جب ہندستان میں ہونیوالے شنگھائی تعاون تنظیم کے رواں برس کے اجلاس میں حکومت ہند پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو مدعو کرنے جا رہی ہے۔ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اقدام سے بوکھلائے پاکستان نے ہند پاک باہمی تعلقات کی سطح اور نیچے لاتے ہوئے کشمیر کے رُخ پر ہندستان اور اقوام عالم کو بہ انداز دیگر کوسنا شروع کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہندستان جہاں ایک بڑی منڈی ہے، وہیں بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لئے اُن کے تجارتی مفادات زیادہ اہم ہیں۔


ہندستان میں مرکز کے زیر انتظام خطے جموں وکشمیر کی صورتحال کی پاکستانی سوچ سے خان نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے حالات کا اس وقت اپنے طور پر موازنہ کیا جب جرمن نشریاتی ادارے 'ڈوئچے ویلے' کو انٹرویو میں اُن سے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات پر سوالات کئے گئے۔ پاکستانی وزیر اعظم نے اقوام عالم پر مسئلہ کشمیر کے تعلق سے بھر پور آواز نہ اٹھانے کا الزام لگایا اور از خود یہ نتیجہ بھی اخذ کر لیا کہ بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لئے اُن کے تجارتی مفادات جہاں زیادہ اہم ہیں ، وہیں ہندستان ایک بڑی منڈی ہے۔


جموں وکشمیر پولیس


کشمیر کو ہند۔ پاک باہمی معاملہ قرار دینے کے عالمی موقف کو بھی انہوں نےکشمیر کے تعلق سے اقوام عالم کے رویے کی سرد مہری پر محمول کیا۔ انٹرویو میں اُن کے اِس استدلال پر کہ ہندستان میں ترمیم شدہ شہریت ایکٹ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ہے! جب ڈوئچے ویلے کے نمائندے نے خان کی توجہ چین کے ایغور مسلمانوں کے ساتھ چین کے سلوک کی طرف مبذول کرائی اور کہا کہ آپ کشمیر اور ہندستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تو بہت تنقید کرتے ہیں، لیکن جب چین اور ایغور مسلمانوں کی بات ہوتی ہے تو آپ اتنے بلند آواز نہیں ہوتے۔ ایسا کیوں ہے؟ تو انہوں نے بلا جھجک کہا کہ ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ جو کچھ ہندستان میں ہو رہا ہے، اس کا موازنہ چین کے ایغور باشندوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری بات یہ کہ چین ہمیشہ ہی ہمارا بہت قریبی دوست رہا ہے۔ ہم چین کے ساتھ مختلف امور پر نجی سطح پر تو بات کرتے ہیں لیکن عوامی سطح پر نہیں، کیونکہ یہ حساس معاملات ہیں‘‘۔
First published: Jan 18, 2020 09:13 AM IST