اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جاپان کا فیصلہ، چین سے مقابلے کے لیے برطانیہ-اٹلی کے ساتھ بنائے گا نئے جنگی طیارے

    جاپان کا فیصلہ، چین سے مقابلے کے لیے برطانیہ-اٹلی کے ساتھ بنائے گا نئے جنگی طیارے

    جاپان کا فیصلہ، چین سے مقابلے کے لیے برطانیہ-اٹلی کے ساتھ بنائے گا نئے جنگی طیارے

    جنگی طیاروں کو تیار کرنے کو لے کر جاپان کا برطانیہ و اٹلی کے ساتھ یہ معاہدہ چین کی بڑھتی طاقت کے مقابلے کے لیے اس کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Tokyo
    • Share this:
      جاپان نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے روایتی معاون امریکہ سے الگ دفاعی تعاون توسیع کے تحت برطانیہ و اٹلی کے ساتھ مشترکہ طور پر اگلی نسل کے جنگی طیارے تیار کرنا چاہتا ہے۔ اس کے تحت جاپان-امریکہ کی جانب سے مشترکہ طور پر تیارہ کردہ متسوبیشی ایف ایکس لڑاکو جیٹ ایف2 کی جگہ نئی نسل کے طیارے بنائے جائیںگے۔ پی ایم فومیو کیشیدہ نے اس اعلان سے ٹھیک چار دن پہلے اگلے 5 سالوں کے دفاعی خرچ میں بھی بھاری اضافہ کا اعلان کیا ہے۔ جاپان کے یہ قدم چین کے لیے بڑا جھٹکا مانے جارہے ہیں۔

      جنگی طیاروں کو تیار کرنے کو لے کر جاپان کا برطانیہ و اٹلی کے ساتھ یہ معاہدہ چین کی بڑھتی طاقت کے مقابلے کے لیے اس کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اب جاپان کے ایف ایکس اور برطانیہ کے ٹیمپیسٹ کو 2035 میں تعیناتی کے لیے اگلی نسل کے جنگی جہازوں میں شامل کیا جائے گا۔ اس معاہدے سے برطانیہ کو انڈوپیسفک خطے میں بڑی موجودگی مل پائے گی۔ جاپان میں 43 کھرب ین (316 ارب ڈالر) کے پان سالہ خرچ کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو سالانہ دفاعی خرچ میں 4 کھرب ین (30 ارب ڈالر) کی اضافی ضرورت ہوگی جسے ایک چوتھائی ٹیکس اضافہ سے فنڈ کیا جائے گا۔ 1945 کے دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی ہار کے بعد ملک کی دفاعی پالیسی میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اس کا مقصد چین اور شمالی کوریا سے بڑھتے خطروں کا مقابلہ کرنے کے لیے جاپان کی طاقت بڑھانا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      جن پنگ نے سعودی بادشاہ اور ولی عہد سے کی ملاقات، ان مسائل پر ہوئی بات چیت

      یہ بھی پڑھیں:
      چین میں گھریلو قرنطینہ کی اجازت، عارضی لاک ڈاؤن کے خاتمے کا حکم، لیکن...

      انڈوپیسفک خطے میں کافی اہم ہے معاہدہ
      یہ معاہدہ انڈوپیسفک خطے کے لیے بہت خاص ہے۔ اس کے مطابق برطانیہ کی زیر قیادت فیوچر کامبیٹ ایئر سسٹم کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ جاپان کے ایف ایکس پروگرام کو بھی اس میں جگہ ملے گی۔ تینوں ممالک میں یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں طے پایا ہے جب روس یوکرین جنگ جاری ہے اور چین نے تائیوان اور جاپان کے خلاف جارحانہ فوجی کارروائی تیز کر دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جاپان اس ڈیل سے پڑوسی چین کے خطرے سے نمٹ سکے گا۔ ساتھ ہی برطانیہ کی بھی اس علاقے کی سیکورٹی میں رول بڑھ جائے گا جو عالمی اقتصادی ترقی میں اہم تعاون دیتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: