உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کیلئے کوئی تسلیم شدہ بین الاقوامی جماعت ہی قابل قبول: فلسطینی صدر محمود عباس

    فلسطین کے صدر محمود عباس۔ فائل فوٹو

    فلسطین کے صدر محمود عباس۔ فائل فوٹو

    سلامتی کونسل کی اس میٹنگ میں مغربی ایشیا سے وابستہ امور کے علاوہ امریکہ کے ذریعہ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طورپر تسلیم کرنے کے بعد پیداہوئی کشیدہ صورتحال پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      اقوام متحدہ : فلسطین کے صدر محمود عباس 20فروری کو ہونے والی اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ماہانہ میٹنگ سے خطاب کریں گے۔ سلامتی کونسل کی اس میٹنگ میں مغربی ایشیا سے وابستہ امور کے علاوہ امریکہ کے ذریعہ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طورپر تسلیم کرنے کے بعد پیداہوئی کشیدہ صورتحال پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
      مسٹر عباس نے کہاکہ وہ اپنے خطاب میں سلامتی کونسل سے فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دےئے جانے کی مانگ کریں گے۔ فلسطینی صدر نے کہاکہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے وہ کسی تسلیم شدہ بین الاقوامی جماعت کو ہی قبول کریں گے۔اقوام متحدہ میں کویت کے سفیر منصور عیاد ال اوتوبی نے مسٹر عباس کے خطاب کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ یہ بہتر ہوگا کہ سلامتی کونسل کے رکن فلسطینی صدر کو سنیں۔
      اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے مسٹر عباس پر الزام لگاتے ہوئے کہاکہ وہ پندرہ رکنی سلامتی کونسل میں اس مجوزہ خطاب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے تمام امکانات کو ختم کررہے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ بر س دسمبر میں دہائیوں پرانی امریکی پالیسی کو درکنار کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طورپر تسلیم شدہ حیثیت دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد 193رکنی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے ایک تجویز منظور کرکے امریکہ سے اپنے اس فیصلہ کو واپس لینے کی گزارش کی تھی۔
      First published: