یہودی انتہا پسندوں نے فلسطینی گھر میں آگ لگائی،18ماہ کے بچے کی موت

سرائیل کے سیکورٹی حکام نے آج کہا کہ مشتبہ یہودی شدت پسندوں نے مغربی کنارے میں ایک گھر میں آگ لگائی

Jul 31, 2015 01:49 PM IST | Updated on: Jul 31, 2015 01:51 PM IST
یہودی انتہا پسندوں نے فلسطینی گھر میں آگ لگائی،18ماہ کے بچے کی موت

مغربی کنارہ : اسرائیل کے سیکورٹی حکام نے آج کہا کہ مشتبہ یہودی شدت پسندوں نے مغربی کنارے میں ایک گھر میں آگ لگائی، جس میں 18 ماہ کی ایک فلسطینی بچے کی موت ہو گئی۔ پولیس ترجمان لوبا سامری نے بتایا کہ اسرائیلی انتہا پسندوں کو پہلے استعمال کیا جانے والا’پرائس ٹیگ‘کا نعرہ مغربی کنارے کےنیبلس شہر میں اس گھر کی دیواروں پر لکھا ہوا ملا۔اس واقعہ میں مہلوک بچے کا چار سالہ بھائی اور والدین بھی زخمی ہو گئے۔مسٹر سامری نے کہا یہ قومی حمیت کے جذبے کے ساتھ کیا گیا مشتبہ حملہ ہے۔ اسرائیلی شدت پسندوں کا یہ سب سے زیادہ خطرناک حملہ ہے۔ایک سال قبل اغوا کاروں نے تین اسرائیلی شہریوں کو قتل کردیا تھا اور اسی کے رد عمل میں ایک فلسطینی نوجوان کو جلا کر مارڈالا گیا تھا۔ذرائع نے بتا یا کہ گھر میں اس وقت آگ لگائی گئی جب خاندان کے افراد سو رہے تھے۔ اسرائیلی سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ تینوں زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔پرائس ٹیگ گروپ نے اس علاقے میں غیر قانونی طور پر آباد کی گئی بستیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائی کے انتقام میں گزشتہ چند سالوں میں مغربی کنارے میں کئی مساجد میں آگ لگادی تھی ۔ اسرائیل نے اس ہفتے بیت اللہ بستی میں دو غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کر دیا تھا۔

Loading...

Loading...