உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکی عوام کو پسند نہیں آیا کابل چھوڑنے سے متعلق جو بائیڈن کا فیصلہ، اپروول ریٹنگ نے بڑھائی ٹینشن

    امریکی عوام کو پسند نہیں آیا کابل چھوڑنے سے متعلق جو بائیڈن کا فیصلہ، اپروول ریٹنگ نے بڑھائی ٹینشن

    امریکی عوام کو پسند نہیں آیا کابل چھوڑنے سے متعلق جو بائیڈن کا فیصلہ، اپروول ریٹنگ نے بڑھائی ٹینشن

    امریکی صدر کے طور پر جوبائیڈن (Joe Biden) کی اپروول ریٹنگ افغانستان (Afghanistan) سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد اب تک کے سب سے نچلی سطح پر ہے۔ 15 اگست کو طالبان (Taliban) نے کابل پر قبضہ کرلیا تھا۔ 31 اگست تک امریکہ نے اپنے سبھی فوجیوں اور شہریوں کو محفوظ نکال لیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      واشنگٹن: افغانستان (Afghanistan) سے امریکی فوجیوں (US Forces) کی واپسی اور کابل پر طالبان (Taliban) کے قبضے کے بعد سے امریکی صدر جو بائیڈن (Joe Biden) اپنی غیرملکی پالیسی کو لے کر سخت تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس درمیان جو بائیڈن کی امریکہ میں اپروول ریٹنگ بھی کم کردی گئی ہے۔ این پی آر اور پی بی ایس نیوشور کے ساتھ ایک نئے میرسٹ نیشنل پول کے مطابق، امریکی صدر جو بائیڈن کی اپروول ریٹنگ 43 فیصد کے اب تک کے سب سے نچلی سطح پر آگئی ہے۔ یہ ان کے صدر بننے کے بعد سے سب سے کم ہے۔ زیادہ امریکیوں نے جو بائیڈن کی غیر ملکی پالیسی کی مذمت ہے، جبکہ آبادی کے ایک بڑے حصے نے بھی افغانستان میں متحدہ ریاست کے کردار کو ناکام بتایا ہے۔

      56 فیصد امریکیوں نے جو بائیڈن کی غیرملکی پالیسی کو مسترد کیا

      نئے پول کی مانیں تو تقریباً 56 فیصد امریکی شہریوں نے جو بائیڈن کی غیر ملکی پالیسی کے طور طریقوں کو قبول نہیں کیا ہے۔ میرسٹ پول کے ذریعہ شائع ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً امریکہ کی 61 فیصد آبادی افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے خلاف ہے۔ پول میں کہا گیا ہے کہ امریکی اس بارے میں مطمئن نہیں ہیں کہ افغانستان میں حقیقت میں کیا ہونا چاہئے تھا، مگر تقریباً 71 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس سے امریکہ کا وقار مجروح ہوا ہے۔

      اپنے لوگ بھی ہیں ناراض

      جوبائیڈن سے ریپبلکن بھی ناراض ہیں۔ پول کے مطابق، 73 فیصد ریپبلکن بھی جو بائیڈن کی غیر ملکی پالیسی کو صحیح نہیں مانتے۔ وہیں 66 فیصد ڈیموکریٹ بھی جو بائیڈن کی پالیسیوں سے نااتفاقی ظاہر کرتے ہیں۔ اس پول میں تقریباً 75 فیصد آزاد سیاستدان بھی شامل ہیں۔

      پول کے نتائج کے مطابق، 61 فیصد لوگوں کو لگتا ہے کہ افغانستان کو امریکہ کی شراکت داری کے بغیر اپنا مستقبل متعین کرنا چاہئے، جبکہ 29 فیصد آبادی کا ماننا ہے کہ جنگ سے متاثر ملک کے معاملے میں شامل رہنا متحدہ ریاست کا فرض ہے۔

      افسران کی رائے۔ کچھ فوجیوں کو کابل میں رہنا چاہئے تھا

      جب امریکیوں سے پوچھا گیا کہ امریکہ کو افغانستان کی صورتحال سے کیسے نمٹنا چاہئے، تو پول میں شامل لوگوں کی رائے الگ الگ تھی۔ 37 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ سبھی امریکی فوجیوں کو واپس لے لیا جانا چاہئے تھا۔ وہیں 38 فیصد آبادی کا کہنا ہے کہ کچھ فوجیوں کو واپس بلایا جانا چاہئے تھا اور کچھ کو افغانستان میں ہی رہنے دینا چاہئے تھا۔ 10 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی کو واپس نہیں لینا چاہئے تا، وہیں پانچ فیصد کا ماننا ہے کہ افغانستان میں زیادہ فوجیوں کو بھیجا جانا چاہئے تھا۔

      جارج ڈبلیو بش زیادہ ذمہ داری

      حالانکہ افغانستان کی حالت کے لئے امریکہ صرف جو بائیڈن کو قصوروار نہیں مانتے، بلکہ جارج ڈبلیو بش کو زیادہ ذمہ دار مانتے ہیں۔ 36 فیصد ووٹنگ کرنے والوں میں سے سب بڑے طبقے نے جارج ڈبلیو بش کو افغانستان میں فوجی مشن کی ‘ناکامی‘ کے لئے سب سے زیادہ ذمہ دار بتایا ہے۔ اس کے مطابق، افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کے لئے جو بائیڈن 21 فیصد، براک اوبامہ 15 فیصد اور ڈونالڈ ٹرمپ 12 فیصد ذمہ دار ہیں۔ وہیں پول میں شامل ڈیموکریٹس نے ریپبلکن لیڈر جارج ڈبلیو بش کو (53 فیصدی) اور ڈونالڈ ٹرمپ کو (22 فیصدی) ذمہ دار بتایا ہے۔ وہیں ریپبلکن نے ڈیموکریٹس لیڈر جو بائیڈن کو (38 فیصدی) اور براک اوبامہ کو (34 فیصدی) ذمہ دار بتایا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: