உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بائیڈن نے 27 روسی ڈپلومیٹس کو نکالا، یوکرین کو NATO سے باہر رکھنے کا مطالبہ نامنظور

    امریکی صدر جوبائیڈن نے روس کو دیا سخت پیغام۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے روس کو دیا سخت پیغام۔

    روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کافی عرصے سے جاری ہے۔ یوکرین 24 اگست 1991 کو سوویت یونین سے الگ ہو گیا تھا۔ سوویت یونین سے علیحدگی کے بعد یوکرین کو مغربی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ نیٹو کا قیام 1949 میں ہوا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے آس پاس کے ممالک سوویت یونین سے اپنا دفاع کر سکیں۔

    • Share this:
      واشنگٹن: روس-یوکرین میں جاری کشیدگی (Russia-Ukraine Tension)کے درمیان امریکی صدر جوبائیڈن (Joe Biden) نے روس کے 27 ڈپلومیٹس کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ واشنگٹن سے یہ حکم جاری کرنے کے علاوہ بائیڈن انتظامیہ نے یوکرین کو ناٹو (NATO) میں شامل نہیں کرنے کی روسی مانگ بھی مسترد کردی ہے۔

      جوبائیڈن نے یوکرین پر حملے کی صورتحال میں روس کو سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ بھی دی ہے۔ بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا، تو وہ روس کی 85 ہزار کروڑ روپے کی ’نیرڈ اسٹریم 2‘ گیس پائپ لائن کو روک دیں گے۔ روس کی اس پائپ لائنسے یوروپ کو قدرتی گیس سپلائی کرنے کا منصوبہ ہے۔

      جرمنی نے کی امریکہ کی حمایت
      خاص بات یہ ہے کہ اب تک نیٹو سے الگ ہونے کی قیاس آرائیوں کا سامنا کرنے والے جرمنی نے بھی امریکہ کا ساتھ دیا ہے۔ دوسری جانب روس اور یوکرین نے دونوں ممالک کی سرحد پر جنگ بندی کے لیے پیرس مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

      کیا ہے روس-یوکرین تنازع کی وجہ
      روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کافی عرصے سے جاری ہے۔ یوکرین 24 اگست 1991 کو سوویت یونین سے الگ ہو گیا تھا۔ سوویت یونین سے علیحدگی کے بعد یوکرین کو مغربی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ نیٹو کا قیام 1949 میں ہوا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے آس پاس کے ممالک سوویت یونین سے اپنا دفاع کر سکیں۔

      2014 میں یوکرین میں جو حکومت تھی، وہ کافی حد تک روس نواز تھی۔ اسی وجہ سے یوکرین نے NATO میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ تاہم نیٹو میں دوبارہ شمولیت کی تحریک تیز ہو گئی ہے۔ یوکرین کے دو حصے ہیں، مغربی یوکرین اور مشرقی یوکرین۔ مشرقی یوکرین میں روس کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

      ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ براہ راست جنگ میں نہیں جائے گا تاہم روس پر اقتصادی پابندیوں کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر امریکا یوکرین کو بڑی فوجی امداد دیتا ہے یا روس پر کوئی بڑی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو اس سے تنازع پیدا ہوسکتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: