உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’ہجوم حملہ کررہا تھا اور ٹرمپ ٹی وی دیکھ رہے تھے‘، کیپٹل ہل پر حملے کی پہلی برسی پر امریکی صدر جوبائیڈن کا خطاب

    بائیڈن نے کہا، ’’ہماری تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا جب ایک صدر کی نہ صرف ہار ہوئی بلکہ اُس نے پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کو بھی روکنے کی کوشش کی اور ہجوم کیپٹل میں داخل ہوگئی، لیکن وہ ناکام رہے۔‘‘

    بائیڈن نے کہا، ’’ہماری تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا جب ایک صدر کی نہ صرف ہار ہوئی بلکہ اُس نے پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کو بھی روکنے کی کوشش کی اور ہجوم کیپٹل میں داخل ہوگئی، لیکن وہ ناکام رہے۔‘‘

    بائیڈن نے کہا، ’’ہماری تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا جب ایک صدر کی نہ صرف ہار ہوئی بلکہ اُس نے پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کو بھی روکنے کی کوشش کی اور ہجوم کیپٹل میں داخل ہوگئی، لیکن وہ ناکام رہے۔‘‘

    • Share this:
      واشنگٹن: کیپٹل ہل (امریکی پارلیمنٹ کی عمارت) میں ہوئے دنگے کی پہلی برسی کے موقع پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر جوبائیڈن نے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر جھوٹ پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپٹل (امریکی پارلیمنٹ کی عمارت) میں کیے گئے ہنگامے اور پرتشدد حملے کی جمعرات کو پہلی برسی کے دوران مذمت کی اور اسے ’خدا کا سچ‘ قرار دیا جس نے اخلاقی طور سے کانگریس (پارلیمنٹ) کو بدل دیا اور دنیا میں امریکی جمہوریت کے مستقبل کو لے کر تشویش پیدا کی۔

      بائیڈن نے کہا، ’’ہماری تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا جب ایک صدر کی نہ صرف ہار ہوئی بلکہ اُس نے پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کو بھی روکنے کی کوشش کی اور ہجوم کیپٹل میں داخل ہوگئی، لیکن وہ ناکام رہے۔‘‘

      ’ہم لوگوں نے برداشت کیا اور ہماری جیت ہوئی‘
      کیپٹل میں بائیڈن نے کہا، ’’جمہوریت پر حملہ کیا گیا تھا۔ ہم لوگوں نے برداشت کیا اور ہم لوگوں کی جیت ہوئی۔‘‘ صدر اور ڈیموکریٹ ارکان پارلیمنٹ کے دن کی شروعات اسٹیچوری ہال سے ہوئی جو اُن کئی مقامات میں سے ہے جہاں پر ہجوم نے پچھلے سال اسی دن حملہ کیا تھا۔

      اس موقع پر بائیڈن نے کیپٹل پر حملے کی سچائی اور جھوٹے پروپیگنڈے میں فرق بتایا جن میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے بائیڈن کی 2020 میں ملی جیت کو لگاتار ناقابل قبول ماننا بھی شامل ہے۔

      انہوں نے کہا، ’’آپ اور میں اور پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا‘‘ بائیڈن نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ وہ آنکھیں بند کر کے اُس دن کو یاد کریں، اس ڈراونے پرتشدد منظر کو دیکھیں، ہجوم پولیس پر حملہ کررہی تھی، ایوان کی اسپیکر کو دھمکایا جارہا تھا، نائب صدر کو پھانسی دینے کی دھمکی دی جارہی تھی اور جب یہ ہورہا تھا تب صر ٹرمپ وہائٹ ہاوس میں ٹی وی پر یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’چھ جنوری 2021 کے بارے میں ایشور کی سچائی ہے کہ وہ آئین کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔‘‘

      واضح رہے کہ چھ جنوری کے واقعہ کی برسی منانے کے لئے پورے دن کئی پروگرام منعقد کیے گئے جن میں ڈیموکریٹ ارکان بذات خود یا ورچول شامل ہوں گے جب کہ تقریباً سبھی ریپبلکن کیپٹل ہل سے غیر حاضر رہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: