உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جو بائیڈن نے کہا- طالبان کی حمایت ملی تو 31 اگست تک پوا کرلیں گے لوگوں کو نکالنے کا کام

    امریکی صدر جو بائیڈن (Joe Biden) نے جی-7 سمٹ میں کہا، ’ افغانستان (Afghanistan) میں موجودہ وقت میں ہم 31 اگست تک اس مہم کو ختم کرنے کی امید کر رہے ہیں۔ جتنی جلدی ہم اسے ختم کرلیں گے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ 31 اگست تک پورا ہونا اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ طالبان (Taliban) تعاون کرنا جاری رکھتا ہے یا نہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن (Joe Biden) نے جی-7 سمٹ میں کہا، ’ افغانستان (Afghanistan) میں موجودہ وقت میں ہم 31 اگست تک اس مہم کو ختم کرنے کی امید کر رہے ہیں۔ جتنی جلدی ہم اسے ختم کرلیں گے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ 31 اگست تک پورا ہونا اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ طالبان (Taliban) تعاون کرنا جاری رکھتا ہے یا نہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن (Joe Biden) نے جی-7 سمٹ میں کہا، ’ افغانستان (Afghanistan) میں موجودہ وقت میں ہم 31 اگست تک اس مہم کو ختم کرنے کی امید کر رہے ہیں۔ جتنی جلدی ہم اسے ختم کرلیں گے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ 31 اگست تک پورا ہونا اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ طالبان (Taliban) تعاون کرنا جاری رکھتا ہے یا نہیں۔

    • Share this:
      واشنگٹن: طالبان کے داخلہ کے بعد سے افغانستان (Afghanistan) میں افراتفری کا ماحول ہے۔ تمام ممالک وہاں سے اپنے شہریوں اور ڈپلومیٹس کو نکال رہے ہیں۔ اس درمیان دنیا کی 7 بڑی معیشت والے ممالک (G7) نے پیر کو طالبان (Taliban) سے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ 31 اگست کے بعد بھی افغانستان میں پھنسے لوگوں کو نکلانے کا کام جاری رکھیں گے۔ طالبان سے بس اتنا کہنا ہے کہ وہ محفوظ راستہ دے۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن (Joe Biden) نے کہا کہ امریکی فوج نے بھی اپنے لوگوں کو ملک سے باہر محفوظ نکالے جانے کی مہم تیز کردی ہے۔ امریکی فوج کو 31 اگست تک اس مہم کو پورا کرلینے کی امید ہے۔ G-7 میں امریکہ، برطانیہ، کناڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔

      سمٹ میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا، ’موجودہ وقت میں ہم 31 اگست تک اس مہم کو ختم کرنے کی امید کر رہے ہیں۔ جتنی جلدی ہم اسے ختم کرلیں گے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ 31 اگست تک پورا ہونا اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ طالبان تعاون کرنا جاری رکھتا ہے یا نہیں۔ ان لوگوں کو ایئر پورٹ تک پہنچنے کی اجازت دیتا ہے، جسے ہم باہر لے جارہے ہیں۔ طالبان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ ہماری اس مہم میں کوئی رخنہ اندازی نہ کرے‘۔


      جو بائیڈن نے مزید کہا، ’جی-7 لیڈران، یوروپی ایسوسی ایشن، ناٹو اور اقوام متحدہ طالبان کے تئیں ہمارے نظریے میں متحد ہونے کے لئے رضا مند ہوئے ہیں‘۔ امریکی صدر نے وہائٹ ہاوس سے کہا، ’ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے 14 اگست کے بعد سے افغانستان سے تقریباً 70,700 لوگوں کو نکالنے میں مدد کی ہے۔ جولائی کے آخر سے اب تک امریکہ نے تقریباً 75,900 لوگوں کو منتقل کر دیا ہے۔

      وہیں دوسری طرف، دو دن پہلے امریکی صدر جو بائیڈن نے مطلع کیا تھا کہ وہ 31 اگست کی مدت سے علیحدہ افغانستان میں نکاسی مشن کی توسیع سے متعلق اپنے فوجی افسران کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ حالانکہ، اب جو بائیڈن نے مقررہ مدت کو مزید آگے بڑھانے سے انکار کردیا ہے۔

      منگل کو نکالے گئے سب سے زیادہ لوگ

      امریکی فوج نے افغانستان سے اپنے شہریوں اور معاونین کو محفوظ نکالنے کا مشن شروع کئے جانے کے بعد سے منگل کو سب سے زیادہ لوگوں کو طیاروں کی مدد سے باہر نکالا۔ وہیں، دوسری طرف طالبان نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جلد ہی لوگوں کو باہر نکالنے کے کام پر روک لگا سکتا ہے۔ وہائٹ ہاوس نے کہا کہ منگل کی صبح تک 24 گھنٹے کی مدت میں تقریباً 21,600 لوگوں کو طالبان کے قبضے والے افغانسان سے باہر نکالا۔ اس سے ایک دن پہلے تقریباً 16,000 لوگوں کو نکالا گیا تھا۔

      واضح رہے کہ کابل ایئر پورٹ سے امریکہ ہر روز ہزاروں لوگوں کو افغانستان سے باہر نکال رہا ہے۔ طالبان کے ذریعہ افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد امریکی اہلکاروں نے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لئے گزشتہ ہفتے کابل ایئر پورٹ پر قبضہ کرلیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: