உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جو بائیڈن کی طالبان کو دھمکی، بولے۔ ہمارے فوجیوں سے الجھے تو ملے گا کرارا جواب، امریکی شہریوں کو وطن واپس لانے کا کیا وعدہ

    Youtube Video

    جو بائیڈن نے کہا کہ ہم نے دنیا کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن چلایا ہے ۔بائیڈن کے مطابق امریکہ نے اب تک افغانستان سے اٹھارہ ہزار افراد کو نکالا ہے۔

    • Share this:
      افغانستان میں جاری بحران پر اپنے خطاب میں امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان میں پھنسے امریکی شہریوں کو وطن واپس لانے کا وعدہ کیا۔ امریکہ۔ امریکیوں اور دیگر کو طالبان سے بچانے کے لیے کابل ایئرپورٹ سے بڑے پیمانے پر آپریشن چلارہا ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ امریکہ ائیرپورٹ تک محفوظ راستہ حاصل کرنے کے لیے طالبان سے مسلسل رابطے میں ہے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے پاس افغانستان میں اس وقت چھ ہزار فوجی موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس نیوز کانفرنس کے دوران ، بائیڈن نے کہا ، "ہم نے طالبان پر واضح کر دیا ہے کہ کوئی بھی حملہ ، ہماری افواج پر کوئی حملہ یا ہوائی اڈے پر ہماری کارروائیوں میں رکاوٹ کہ تو فوری طور پر  اور کرارا جواب دیا جائے گا۔"

      جو بائیڈن نے کہا کہ ہم نے دنیا کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن چلایا ہے ۔بائیڈن کے مطابق امریکہ نے اب تک افغانستان سے اٹھارہ ہزار افراد کو نکالا ہے۔ جو بائیڈن نے افغان شہریوں کی مدد کی بھی یقین دہانی کرائی جو امریکہ کی حمایت کرتے ہیں ، خاص طور پر خواتین اور کمانڈروں کی۔امریکی صدر نے کہا کہ فوج کے ساتھ ساتھ افغانستان سے لوگوں کو نکالنے کے لیے کمرشل پروازیں بھی چلائی جا رہی ہیں۔

      اس کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ بائیڈن نے کہا کہ جب ہمارا ریسکیو مشن ختم ہو جائے گا تو ہم وہاں سے اپنی فوج کو مکمل طور پر واپس بلا لیں گے۔ بائیڈن نے کہا کہ افغانستان سے نکالے جانے والوں میں امریکی شہری ، مستقل رہائشی ، خصوصی تارکین وطن ویزا درخواست گزار اور افغان شامل ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ کام کیا ہے۔

      طالبان کو ایک اوربڑا جھٹکا لگا ہے۔ حال ہی میں ، امریکہ نے نو اعشاریہ پانچ بلین ڈالر یعنی سات سو چھ ارب روپے کے اثاثے منجمد کیے تھے ، جس کے بعد اب آئی ایم ایف یعنی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنے وسائل کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ طالبان کے زیر قبضہ افغانستان اب اپنے وسائل استعمال نہیں کر سکے گا اور نہ ہی انہیں کوئی نئی مدد دی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے چار سو ساٹھ ملین ڈالر یا تقریبا تین ہزار چار سو کروڑ روپے کے ہنگامی ریزرو تک افغانستان کی رسائی روک دی ہے۔ یہ فیصلہ طالبان کے قبضے کے بعد ملک کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

      وہیں افغانستان میں خراب ہوتی صورتحال کے درمیان ہندوستانیوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔ خبر ہے کہ ہفتہ کو ہندوستانی فضائیہ کا سی -130 جے طیارہ 85 ہندوستانیوں کو لے کر کابل سے پرواز کرچکا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق، ذرائع نے بتایا، ’ایندھن بھروانے کے لئے طیارہ تاجکستان میں اترا ہے۔ ہندوستانی شہریوں کو نکالنے میں کابل میں موجود ہندوستانی سرکاری افسر مدد کر رہے ہیں‘۔ گزشتہ منگل کو ہی تقریباً 120 ہندوستانی شہریوں کو لے کر ہندوستانی فضائیہ کا سی-17 گلوب ماسٹرہندوستان پہنچا تھا۔

      میڈیا رپورٹس کے مطابق، افغانستان میں تقریباً 450 ہندوستانیوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کی واپسی کے لئے ہندوستانی حکومت امریکہ اور دیگر سفارت خانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ کابل ایئر پورٹ تک پہنچنے سے لے کر طیارہ کے دہلی لینڈ کرنے میں بھی کئی پریشانیاں آرہی ہیں۔ ’دی ہندو‘ کی رپورٹ میں افسران کے حوالے سے بتایا گیا کہ طالبان کے راجدھانی پر قبضہ کرنے کے بعد بھی رسمی حکومت کی تشکیل نہیں ہوئی ہے۔ ایسے مین ان لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جن کے پاس ضروری دستاویز نہیں ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: