உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یمن اور شام میں لڑائی کےخاتمہ کیلئے جان کیری کی سعودی عرب کے نائب ولی عہد سے گفتگو

    امریکہ وزیر خارجہ جان کیری نے سعودی عرب کے بااختیار نائب ولی عہد محمد بن سلمان سے یمن میں لڑائی کا خاتمہ اور برسرپیکار فریقوں کے درمیان امن بات چیت پھر سے شروع کرنے پر بات کی۔

    امریکہ وزیر خارجہ جان کیری نے سعودی عرب کے بااختیار نائب ولی عہد محمد بن سلمان سے یمن میں لڑائی کا خاتمہ اور برسرپیکار فریقوں کے درمیان امن بات چیت پھر سے شروع کرنے پر بات کی۔

    امریکہ وزیر خارجہ جان کیری نے سعودی عرب کے بااختیار نائب ولی عہد محمد بن سلمان سے یمن میں لڑائی کا خاتمہ اور برسرپیکار فریقوں کے درمیان امن بات چیت پھر سے شروع کرنے پر بات کی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      جدہ : امریکہ وزیر خارجہ جان کیری نے سعودی عرب کے بااختیار نائب ولی عہد محمد بن سلمان سے یمن میں لڑائی کا خاتمہ اور برسرپیکار فریقوں کے درمیان امن بات چیت پھر سے شروع کرنے پر بات کی۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ کیری سعودی رہنماؤں اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ تبادلہ خیال کے لئے نائجیریا سے جدہ آئے ہیں وہ پرنس سلمان کو شام میں روس کے ساتھ فوجی تعاون کے بارے میں ہونے والی میٹنگ سے بھی مطلع کریں گے۔
      خلیجی ریاستوں کا شامی منصوبہ سے متفق ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ شام کی خانہ جنگی میں شامل شامی اپوزیشن گروپوں پر ان کا کافی اثر ہے ۔ دوسری جانب روس اور ایران شامی صدر بشار الاسد کی حمایت کرتے ہیں ۔ یہ بات چیت اس وقت ہورہی ہے جب شامی باغی ترک خصوصی فورسز ٹنکوں اور جنگی جہازوں کی مدد سے ترک شام سرحد پر داعش کے آخری گڑھ میں داخل ہوگئے ہیں ۔ اپنے جنوبی ہمسایہ کے ساتھ امریکہ کی مدد سے ترک نے پہلا بڑا حملہ کیا ہے۔
      قبل ازیں وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ کیری شام میں فوجی تعاون اور خفیہ معلومات میں شراکت کے لئے ایک سمجھوتہ کرنے کی غرض سے جمعہ کو جنیوا میں روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملیں گے۔ اس کے نتیجہ میں اسد کے جنگی جہازوں کو پرواز نہیں کرنے دیا جائے گا جبکہ روس اور امریکہ فوجی داعش (اسلامی مملکت ) کے خلاف تال میل کے ساتھ حملے کریں گے۔
      کیری آج سعودی شاہ سلمان سے بھی ملیں گے اس کے بعد وہ سعودی عرب ۔ متحدی عرب امارات اور برطانوی معاون وزیر خارجہ ٹوبیاس ایل وڈکے ساتھ بات کرکے یمن میں 16 ماہ سے جاری لڑائی کو ختم کرانے کی کوشش کریں گے جس میں اب تک ساڑے چھ ہزار جانیں ضائع ہوچکی ہیں جن میں سے نصف عام شہری تھے۔ سعودی عرب یمن میں ایران نواز شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف صدر عبدوربو منصور ہادی کی حکومت کی حمایت میں عرصہ سے فضائی حملے کررہا ہے جس میں بڑے پیمانے پر عام شہری مارے گئے جس کی وجہ سے اس پر بے حد نکتہ چینی کی گئی ہے۔
      امریکی فوج نے یمن پر فضائی حملوں میں سعودی عرب کی مدد کی ہے انسانی حقوق کے گروپوں کی دلیل ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے لئے امریکی فورسز کو بھی ذمہ دار ٹہرایا جانا چاہیے ۔ کیونکہ یہ جنگ کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کے فوجیوں کو صحیح نشانے لگانے کی تربیت دے رہا ہے تاکہ عام شہریوں کی اندھا دھند ہلاکتیں نہ ہوں اور جو بھی ہو قانونی طریقہ سے ہو۔ امریکہ میں بھی سعودی عرب پر اس بات کے لئے تنقید ہوئی ہے کہ اس نے سول عمارتوں بشمول ہسپتالوں تک کو نشانہ بنایا ہے۔
      امریکی افسر نے بتایا کہ کیری یمن میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر امریکہ کی تشویش ظاہر کریں گے وہ سعودی عرب پر دباؤ ڈالیں گے فضائی حملے صحیح جگہ نشانہ لگاکر کئے جائیں بے قصوروں پر حملے نہ ہوں۔ اقوام متحدہ کی’ جنگ اور بچوں‘ پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن میں پچھلے سال ہوئی بچوں کی 60 فی صد ہلاکتوں اور ان کے زخمی اور معذور ہونے کے لئے سعودی عرب ذمہ دار ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ اطلاعات صحیح معلومات پر مبنی نہیں ہیں ۔
      First published: