உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Kabul Blast: امریکی صدر جو بائیڈن نے کابل حملے پر کہا ۔ حملہ آوروں کو چکانی پڑے گی قیمت

    امریکی صدر جو بائیڈن (Joe Biden)نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس حملے میں ایک درجن سے زائد امریکی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن (Joe Biden)نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس حملے میں ایک درجن سے زائد امریکی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امریکی فوج اس حملے میں ملوث دہشت گرد گروہ کے خلاف حملوں کو تیز کرے گی۔ وائٹ ہاؤس (White House)میں خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا ، اس حملے کے مجرموں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم انہیں معاف نہیں کریں گے۔ ہم ان دھماکوں کو کبھی نہیں بھولیں گے اور ہم ان کو ڈھونڈ کر مار ڈالیں گے۔

    • Share this:
      واشنگٹن: افغانستان کے دارالحکومت کابل (Kabul Blast)میں ایک بعد بعد دیگرے دھماکوں کے بعد اب امریکی صدر جو بائیڈن (Joe Biden)نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس حملے میں ایک درجن سے زائد امریکی شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ امریکی فوج اس حملے میں ملوث دہشت گرد گروہ کے خلاف حملوں کو تیز کرے گی۔ وائٹ ہاؤس (White House)میں خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا ، اس حملے کے مجرموں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم انہیں معاف نہیں کریں گے۔ ہم ان دھماکوں کو کبھی نہیں بھولیں گے اور ہم ان کو ڈھونڈ کر مار ڈالیں گے۔

      امریکی صدر نے کہا ، انہیں ایسی بہت سی معلومات ملی ہیں جن کو جاننے کے بعد ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ داعش ان حملوں میں ملوث ہے۔ امریکہ نے داعش کے ان رہنماؤں شناخت کی ہے کہ جو کابل میں حملوں میں ملوث ہیں۔ ہم ان تمام دہشت گردوں کو بغیر کسی بڑے فوجی آپریشن کے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ وہ جہاں بھی پوشیدہ ہیں ، ہم ان تک پہنچ سکتے ہیں۔ بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے امریکی فوجی کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ داعش پر حملے کے منصوبے پر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جس جگہ کا انتخاب کرتے ہیں ، ہم وہاں درست حملے کرتے ہیں۔

      (Image: AFP)
      (Image: AFP)


      امریکی نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ اس ماہ کے آخر تک افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا منصوبہ مکمل کر لے گا ۔ بائیڈن نے اصرار کیا کہ ہم یہ کر سکتے ہیں اور ہمیں اس مشن کو پورا کرنا ہے اور ہم کریں گے۔ ہم دہشت گردوں سے نہیں ڈریں گے اور نہ ہی اپنے مشن کو روکیں گے۔ ہم اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکالنے کا کام جاری رکھیں گے۔

      کم از کم 60 افغان شہری بھی بم دھماکوں میں مارے گئے

      پینٹاگون حکام نے بتایا کہ اب تک اس حملے میں داعش کے دو خودکش حملہ آوروں کے ملوث ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ایک بم حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے بالکل باہر ایک گیٹ کے قریب پھٹ گیا ، اس کے بعد گولیاں چلیں اور دوسرا بم بارون ہوٹل کے قریب تھوڑا فاصلے پر پھٹا۔ عہدیداروں نے کہا کہ جمعرات کو کابل میں جس طرح حملہ ہوا اسے دیکھنے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ افغانستان میں امریکی فوج کے لیے تقریبا ً ایک دہائی کا مہلک ترین دن تھا۔ جمعرات کو ہونے والے ان بم دھماکوں میں 60عام شہری اور 13امریکی فوجیوں ہلاک ہوئے ہیں۔

      امریکی صدر نے کابل دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کو "ہیرو" قرار دیا ۔امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک لمحے کی خاموشی اختیار کی اور کابل دھماکوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے اہل خانہ سے اظہارِتعزیت کی۔ اپنے پیغام میں ، بائیڈن نے کابل دھماکوں میں اپنی جانیں گنوا دینے والے امریکی سروس ممبروں کو "ہیرو" قرار دیا۔ انہوں نے کہا ، جن لوگوں کو ہم نے آج کھو دیا ہے انہوں نے اپنی جانیں سلامتی ، دوسروں کی خدمت اور امریکہ کی خدمت میں دی ہیں۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: