உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Kabul Airport: کابل ایئر پورٹ کے سیکورٹی حالات بے حد نازک، فی الحال ہندوستان کے لئے جلد پرواز نہیں

    پیر کی صبح کابل ایئر پورٹ (Kabul Airport) کی طرف 6 راکٹ داغے گئے، جنہیں یو ایس اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم (US Anti Missile Defense System) نے ناکام کردیا۔ اس سے پہلے امریکہ نے دو بار اسلامک اسٹیٹ کے مبینہ دہشت گردوں کے خلاف ڈرون اسٹرائیک (Drone Strike) کو انجام دیا اور ایئر پورٹ پر دوبارہ خود کش حملے کی سازش ناکام کردیا۔

    پیر کی صبح کابل ایئر پورٹ (Kabul Airport) کی طرف 6 راکٹ داغے گئے، جنہیں یو ایس اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم (US Anti Missile Defense System) نے ناکام کردیا۔ اس سے پہلے امریکہ نے دو بار اسلامک اسٹیٹ کے مبینہ دہشت گردوں کے خلاف ڈرون اسٹرائیک (Drone Strike) کو انجام دیا اور ایئر پورٹ پر دوبارہ خود کش حملے کی سازش ناکام کردیا۔

    پیر کی صبح کابل ایئر پورٹ (Kabul Airport) کی طرف 6 راکٹ داغے گئے، جنہیں یو ایس اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم (US Anti Missile Defense System) نے ناکام کردیا۔ اس سے پہلے امریکہ نے دو بار اسلامک اسٹیٹ کے مبینہ دہشت گردوں کے خلاف ڈرون اسٹرائیک (Drone Strike) کو انجام دیا اور ایئر پورٹ پر دوبارہ خود کش حملے کی سازش ناکام کردیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان پر طالبان (Taliban) کے قبضے کے بعد 550 سے زیادہ لوگوں کو 6 پرواز کے ذریعہ افغانستان (Afghanistan Crisis) سے ہندوستان لایا گیا۔ ان میں 260 ہندوستانی شہری شامل ہیں۔ تاہم فی الحال کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ (Hamid Karzai International Airport) کے سیکورٹی حالات کو دیکھتے ہوئے آئندہ فلائٹ آنے کا امکان کم ہے۔ وزارت خارجہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ افغانستان سے کچھ اور لوگ ہندوستان لوٹ سکتے ہیں۔

      ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ فی الحال ایئر پورٹ (Kabul Airport) پر سیکورٹی حالات موافق نہیں ہیں، ایسے میں وہاں پھنسے کچھ ہندوستانیوں کی وطن واپسی میں تھوڑا وقت مزید لگ سکتا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ تقریباً 20 ہندوستانی آج بھی افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کی ملک واپسی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ہندوستانی حکومت ان سے رابطے میں ہے۔

      140 سے زیادہ سکھ اور ہندو افغانی بھی آنا چاہتے ہیں ہندوستان

      وہیں افغان ہندو اور سکھ برادری کے قریب 140 سے زیادہ عقیدتمند بھی وہاں سے ہندوستان آنا چاہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 26 اگست کو 140 سکھ افراد کو طالبان نے ہندوستان آنے سے روکا تھا۔ انڈین ورلڈ فورم کے صدر پنیت سنگھ چنڈوک نے نیوز 18 سے کہا کہ وہ افغان سکھ عقیدتمندوں کے ہندوستان آنے کے لئے طالبان کے لیڈر ذبیح اللہ مجاہد کے ساتھ رابطے میں بنے ہوئے ہیں اور اقلیتی سکھ برادری کے تحفظ کا موضوع بھی طالبان کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔ طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سبھی سکھ عقیدت مند کو درست ویزا اور پاسپورٹ پر جانے دیا جائے گا، لیکن ساتھ ہی ایئر پورٹ کے سیکورٹی حالات کا حوالہ دے کر فی الحال سفر نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔

      ترکی یا قطر کو دی جاسکتی ہے ایئرپورٹ چلانے کی ذمہ داری

      ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن سے پہلے پیر اور منگل کو امریکہ اپنے فورسیز کو افغانستان سے نکالنے کے لئے جنگی سطح پر قدم اٹھا رہا ہے۔ ساتھ ہی امریکی فوج کے باہر نکلنے کے بعد ایئر پورٹ کے چلانے کی ذمہ داری قطر یا ترکی کو دی جاسکتی ہے۔ اس میں ایئر پورٹ کے اندر کی سیکورٹی بھی طالبان قطر یا ترکی کو دے گا، یہ ابھی واضح نہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ ایئر پورٹ کی سیکورٹی نظام معمول پر آنے کے بعد ہی اگلی پرواز ہندوستان کے لئے روانہ ہوگی اور ہندوستان پہلے سے ہی امریکہ، ایران، ازبکستان کے ساتھ رابطے میں بنا ہوا ہے تاکہ پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو وہاں سے محفوظ نکالا جاسکے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: