உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Kartarpur Gurudwara Darbar Sahib: کرتار پور صاحب میں ماڈل کے فوٹو شوٹ پر ہندوستان سخت، پاکستانی سفیر کو کیا طلب

    Pakistan Model Photoshoot in Kartarpur Sahib: پاکستان پولیس نے کرتار پور میں گرودوارہ صاحب میں ملبوسات کے ایک برانڈ کے لئے بغیر سر ڈھکے فوٹو شوٹ کرائے جانے کے بعد پاکستانی ماڈل اور ملبوسات برانڈ کے خلاف سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے جانچ شروع کی ہے۔ 

    Pakistan Model Photoshoot in Kartarpur Sahib: پاکستان پولیس نے کرتار پور میں گرودوارہ صاحب میں ملبوسات کے ایک برانڈ کے لئے بغیر سر ڈھکے فوٹو شوٹ کرائے جانے کے بعد پاکستانی ماڈل اور ملبوسات برانڈ کے خلاف سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے جانچ شروع کی ہے۔ 

    Pakistan Model Photoshoot in Kartarpur Sahib: پاکستان پولیس نے کرتار پور میں گرودوارہ صاحب میں ملبوسات کے ایک برانڈ کے لئے بغیر سر ڈھکے فوٹو شوٹ کرائے جانے کے بعد پاکستانی ماڈل اور ملبوسات برانڈ کے خلاف سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے جانچ شروع کی ہے۔ 

    • Share this:
      نئی دہلی: کرتار پور میں گرودوارہ دربار صاحب (Kartarpur Gurudwara Darbar Sahib) میں ملبوسات کے ایک برانڈ کے لئے بغیر سر ڈھکے فوٹو شوٹ کرائے جانے کے معاملے میں ہندوستان نے پاکستان (Pakistan) کے ہائی کمشنر کو طلب کرکے اعتراض درج کرایا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے منگل کو اس بات کی جانکاری دی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ ’پاکستانی ماڈل اور کپڑوں کے برانڈ کے ذریعہ گرودوارہ دربار صاحب، کرتار پور کی پاکیزگی کی توہین کے حادثہ پر ہندوستان نے گہری تشویش کا اظہار کرنے کے لئے پاکستان کے ڈپلومیٹ کو طلب کیا۔

      ارندم باغچی نے کہا کہ ’پاکستانی سفیر کو یہ بتایا گیا کہ اس قابل مذمت حادثہ نے ہندوستان اور دنیا بھر میں سکھ برادری کے جذبات کو بہت تکلیف پہنچائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی عبادت گاہ کی توہین کرنے اور بے عزتی کرنے کے ایسے حادثات ان برادریوں کی آستھا کے تئیں احترام کی کمی کو اجاگر کرتی ہیں‘۔ وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی افسر اس معاملے کی ایمانداری سے جانچ کریں گے اور اس میں شامل لوگوں کے خلاف کارروائی کریں گے‘۔

      کیا ہے تنازعہ؟

      واضح رہے کہ پاکستان پولیس نے کرتار پور میں گرودوارہ صاحب میں ملبوسات کے ایک برانڈ کے لئے بغیر سر ڈھکے فوٹو شوٹ کرائے جانے کے بعد پاکستانی ماڈل اور ملبوسات برانڈ کے خلاف سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے جانچ شروع کی ہے۔ پولیس نے یہ جانچ تصاویر کو لے کر ایک ہندوستانی سکھ صحافی کے ذریعہ تنقید کئے جانے کے بعد شروع کی۔ آزاد صحافی رویندر سنگھ نے ٹوئٹ کرکے ذکر کیا کہ تصاویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی ہیں۔ انہوں نے برادری کے تئیں بے عزتی کو اجاگر کیا۔ رویندر سنگھ نے اپنی پوسٹ میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو بھی ٹیگ کیا۔

      گرودوارہ میں اپنا سر ڈھکنا لازمی ہے اور اسے اس پاکیزہ مقام کے تئیں احترام دکھانے کا ایک طریقہ مانا جاتا ہے۔ فوٹو شوٹ کو لے کر سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد پنجاب صوبہ کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی کی حکومت حرکت میں آئی۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ انہوں نے حادثہ کا نوٹس لیا ہے اور معاملے کی جانچ کے احکامات دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرودوارے میں ’ماڈلنگ‘ کی اجازت دینے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا، ’اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘۔

      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: