உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Kazakhstan میں حالت ابتر، فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم، صدر نے کہا-خودسپردگی نہ کرنے والوں کو مارا جائے گا

    قزاقستان کے صدر نے فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا دیا حکم۔

    قزاقستان کے صدر نے فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا دیا حکم۔

    تقریباً تین دہائیوں یعنی 30 سال پہلے آزاد ہونے کے بعد سے پہلی مرتبہ قزاقستان میں سڑکوں پر زبردست مظاہرے ہورہے ہیں۔ گاڑیوں کے ایندھن کی ایک مخصوص قسم کی قیمتوں میں تقریباً دو گنا اضافہ ہونے کی مخالفت میں شروع ہوئے یہ مظاہرے پورے ملک میں پھیل گئے۔

    • Share this:
      نور سلطان: قزاقستان (Kazakhstan) کے صدر قاسم جومرات توکایوف (Kassym-Jomart Tokayev) نے جمعہ کو کہا ہے کہ انہوں نے سیکورٹی فورس کو ’فسادیوں‘ پر گولی چلانے اور اُنہیں مار گرانے کا پاور دے دیا ہے۔ ملک میں پچھلے کئی دنوں سے جاری پرتشدد مظاہروں کے بعد یہ قدم اٹھانے کو کہا گیا ہے۔ ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ کیے گئے قوم سے نام خطاب میں صدر توکایوف نے بدامنی پھیلانے کے لئے فسادیوں اور انتہا پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ قانون لاگو کرنے والی ایجنسیوں کو فسادی دہشت گردوں کو گولی مارنے کا حق دیا گیا ہے۔

      توکایوف نے کہا جو لوگ خودسپردگی نہیں کریں گے، اُنہیں مار دیا جائے گا۔ انہوں نے کچھ دیگر ممالک کی جانب سے مظاہرین کے ساتھ بات چیت کرنے کی تجویز کو ’بکواس‘ قرار دیا۔ صدر توکایوف نے کہا، ’مجرموں، قاتلوں کے ساتھ کیا بات چیت ہوسکتی ہے؟‘ صدر نے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ ملک میں آئینی صورتحال، بحال کردی گئی ہے اور مقامی انتظامیہ نے حالات پر قابو پالیا ہے۔ صدر نے کہا، ’دہشت گرد فسادی اب بھی ہتھیاروں کا استعمال کررہے ہیں اور لوگوں کی جائیداد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کے خلاف دہشت گرد مخالف کارروائی جاری رکھی جانی چاہیے۔‘

      تین دہائی میں پہلی مرتبہ زبردست احتجاج
      قزاقستان کے داخلی امور کی وزارت نے کہا ہے کہ فسادیوں کی جانب سے 26 مظاہرین مارے گئے، 18 زخمی ہوگئے جب کہ 3000 سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس دوران 18 سیکورٹی اہلکار بھی مارے گئے اور تقریباً 700 زخمی ہوئے۔ تقریباً تین دہائیوں یعنی 30 سال پہلے آزاد ہونے کے بعد سے پہلی مرتبہ قزاقستان میں سڑکوں پر زبردست مظاہرے ہورہے ہیں۔ گاڑیوں کے ایندھن کی ایک مخصوص قسم کی قیمتوں میں تقریباً دو گنا اضافہ ہونے کی مخالفت میں شروع ہوئے یہ مظاہرے پورے ملک میں پھیل گئے۔ یہ مظاہرے آزادی کے بعد سے ایک ہی پارٹی کے دوراقتدار کو لے کر غیراطمینانی کو ظاہر کرتے ہیں۔

      الماٹی ہوائی اڈے کو قبضے سے آزاد کرایا گیا
      احتجاجی مظاہرے بے حد پرتشدد ہوگئے ہیں، سرکاری عمارتوں میں آگ زنی کی گئی اور ایک درجن سے زیادہ اہلکاروں کی موت ہوگئی۔ الماٹی میں جمعہ کی صبح بھی جھڑپ ہونے کی خبر ہے۔ روسی نیوز ایجنسی تاس کے مطابق الماٹی (Almaty) میں ایک عمارت کو آگ کے حوالے کردیا گیا۔ حالانکہ سیکورٹی فورس نے الماٹی ہوائی اڈے کو مظاہرین کے قبضے سے آزاد کرالیا ہے۔ عہدیداروں نے زور دے کر کہا ہے کہ فوج، مظاہرین کے ساتھ نہیں لڑے گی، بلکہ سرکاری اداروں کی حفاظت کریں گے۔‘ وہیں، کچھ علاقوں میں حالات کے معمول پر آنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہین۔ دارالحکومت نور سلطان میں انٹرنیٹ کو عبوری طور پر بحال کردیا گیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: