اپنا ضلع منتخب کریں۔

    شیعہ مسجد پر حملے کا انتقام لینے کا خامنہ ای نے کیا اعلان، ملک کی عوام سے کی متحد ہونے کی اپیل

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (فائل فوٹو)

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (فائل فوٹو)

    اے پی ایجنسی کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے شیعہ مسجد پر حملے کو چھ ہفتوں سے جاری حجاب مخالف مظاہروں سے جوڑنے کی کوشش کی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      حجاب مخالف مظاہروں کے درمیان شیعہ مسجد پر دہشت گردانہ حملے سے ایران حکومت دباو میں آگئی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے سیکورٹی سے کھلواڑ کرنے والوں سے بدلہ لینے کا اعلان کیا۔ سرکاری ٹی وی پر دئیے بیان میں انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کو ضرور کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے اسے ملک کے دشمنوں کی سازش قرار دیتے ہوئے لوگوں سے متحد ہونے کی اپیل کی۔

      دہشت گردانہ حملے میں ہوئی تھی 15 لوگوں کی موت
      بتادیں کہ شیراز شہر میں شاہ چراغ مسجد پر بدھ کو دہشت گردانہ حملے میں 15 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ خامنہ ای نے کہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ دشمنوں کا مقابلہ کریں۔ خامنہ ای کی جانب سے ملک کی عوام سے متحد ہونے کی اپیل صرف حکومت کے تئیں وفادار لوگوں سے ہے، چھ ہفتوں سے احتجاج کررہے مظاہرین سے نہیں۔

      مہسا امینی کے حامیوں نے لگائے خامنہ ای مردہ باد کے نعرے
      اسلامی ڈریس کوڈ پر عمل آوری نہ کرنے پر تہران میں گرفتاریاں کی گئیں۔ 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد اس کے 40ویں دن کے موقع پر حامیوں نے خامنہ ای مردہ باد کے نعرے لگائے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      پوتن نے کہا-مستقبل ہندوستان کا ہے۔۔دنیا میں بڑھ رہا ہے رول، مودی قیادت کی بھی تعریف کی

      یہ بھی پڑھیں:
      مہسا امینی کی موت کے بعد 40ویں دن سڑکوں پر اترے ہزاروں مظاہرین

      صدر رئیسی نے مظاہروں کو بتایا فساد
      اے پی ایجنسی کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے شیعہ مسجد پر حملے کو چھ ہفتوں سے جاری حجاب مخالف مظاہروں سے جوڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مظاہرے کو فساد قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیعہ مسجد پر حملے کی اجازت ملی، حالانکہ وہ اس کے لیے کوئی ثبوت نہیں دے پائے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: