ہوم » نیوز » عالمی منظر

فرانس میں پیغمبر محمد کا کارٹون دکھانے پر ٹیچر کا گلا کاٹ کر قتل: جانیں پورا معاملہ

حال ہی میں اپنے طلبا کو پیغمبر محمدکا کارٹون (Cartoon Of Prophet Mohhamad) دکھانے والے استاذ کا اسکول کے باہر سر کاٹ (Muder of Teacher) دیا گیا۔ صدر ایمونئل میکرون (Emanuel Macron) نے اسے اسلامی دہشت گردانہ حملہ (Islamic Terrorist Attack) بتایا۔

  • Share this:
فرانس میں پیغمبر محمد کا کارٹون دکھانے پر ٹیچر کا گلا کاٹ کر قتل: جانیں پورا معاملہ
اس حملے میں مارے گئے ٹیچر تاریخ پڑھاتے تھے

پیرس: حال ہی میں اپنے طلبا کو پیغمبر محمدکا کارٹون (Cartoon Of Prophet Mohhamad) دکھانے والے استاذ کا اسکول کے باہر سر کاٹ (Muder of Teacher) دیا گیا۔ صدر ایمونئل میکرون (Emanuel Macron)  نے اسے اسلامی دہشت گردانہ حملہ (Islamic Terrorist Attack) بتایا۔  ٹیچر کا سر کاٹنے والے حملہ آور کو گرفتار کرنے کی کوشش میں پولیس نے اسے گولی مار دی۔ پولیس کی گولی لگنے سے حملہ آور کی موت ہو گئی۔ پولیس کے ایک ذرائع نے بتایا کہ جس طرح اکثر جہادی حملوں میں اللہ اکبر کی چیخ سنائی پڑتی ہے اسی طرح جب پولیس اس حملہ آور کی پکڑنے کیلئے آگے بڑھی تب وی بھی اللہ اکبر کا چلایا۔

فرانس کی راجدھانی سے تیس کلو میٹر دور پیش آئی واردات

یہ معاملہ فرانس کی راجدھانی پیرس (PARIS) سے تقریبا 30 کلو میٹر (20 میل) کی دوری پر شمال مغربی مضافاتی علاقے  (northwestern suburb) کانفلینس سینٹ۔ہونورن (onflans Saint-Honorine) کے ایک مڈل اسکول کے باہر پیش آیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اسکول کے پاس ایک مشتبہ شخص کے بارے میں کال ملنے کے بعد پولیس جائے حادثہ پر پہنچی تھی۔ انہیں وہاں ٹیچر کی لاش ملی جلد ہی انہوں نے مشتبہ حملہ آور کو ڈھونڈ لیا جس کے ہاتھ میں اس وقت بلیڈ تھا۔ پولیس نے حملہ آور کو جب پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے انہیں دھمکی دی۔ پولیس نے اسے پکڑنے کیلئے گولی چلائی اور اسے شدید طور سے زخمی کر دیا لیکن بعد میں اس کی موت ہوگئی۔


ٹیچر پڑھاتا تھا (Freedom of expression)۔۔

اس حملے میں مارے گئے ٹیچر تاریخ پڑھاتے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں بچوں کے ساتھ (Freedom of expression) پر چرچا کرتے ہوئے انہوں نے پیغمبر محمد کے کارٹون دکھائے۔ اسکول میں ایک اسٹوڈینٹ کے والدین نے بتایا کہ ٹیچر نے کارٹو دکھانے سے پہلے مسلم طلبا کو کمرے ست باہر جانے کیلئے کہہ کر تنازعہ چھیڑ دیا تھا۔
ایک عدالتی ذرائع نے سنچر کو اے ایف پی (AFP) کو بتایا کہ ایک نابالغ سمیت چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ سب حملہ آور سے جڑے ہوئے تھے۔
فرانس میں 2015 میں بھی ہوئے تھے ایسے حملے
فرانس مین سال 2015 میں میزگزین (satirical magazine) شارلی ابدو (Charlie Hebdo) اور راجدھانی میں ایک یہودی سپر مارکیٹ پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے اسلامی تشدد کی لہر مسلسل کسی نہ کسی شکل میں نظر آرہی ہے۔ فرینچ اینٹی ٹیرر پراسیکیوٹر (French anti-terror prosecutors) اس حملے میں ہوئےقتل کو ایک دہشت گرد تنظیم سے جو ڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
ملک کے صدر ایمونئل میکرون نے جائے وقوع کا جائزہ لیا اور اس حملے سے مایوس اور حیرت زدہ نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ قتل نے ایک اسلامی دہشت گردانہ حملے کی بانگی پیش کی ہے۔ انہوں نے اساتذہ کی سکیورٹی کو اپنی ترجیح بتاتے ہوئے کہا کہ پورا ملک ٹیچرس کے تحفظ کیلئے تہار رہے اور قدامت پرستی کبھی نہیں جیت سکے گی۔ وہیں وزیر تعلیم جین مشیل بلینکر نے بھی حملے پر ایک ٹویٹ کیا کہ جمہوریت پر حملہ ہورہا ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Oct 17, 2020 06:16 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading