ہوم » نیوز » عالمی منظر

خطرہ ہونے پر جوہری ہتھیاروں کو چلانے والا بٹن دبا دیں گے: کم جونگ ان

سیول۔ شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر کم جونگ نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ کسی طرح کا خطرہ محسوس ہونے پر وہ اس کی میز پر نصب جوہری ہتھیاروں کو چلانے والے بٹن کو دبا دیں گے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 01, 2018 01:18 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
خطرہ ہونے پر جوہری ہتھیاروں کو چلانے والا بٹن دبا دیں گے: کم جونگ ان
شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان: تصویر، رائٹرز، فائل فوٹو۔

سیول۔ شمالی کوریا کے ڈکٹیٹر کم جونگ نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ کسی طرح کا خطرہ محسوس ہونے پر وہ اس کی میز پر نصب جوہری ہتھیاروں کو چلانے والے بٹن کو دبا دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی اس آمر نے جنوبی کوریا کے ساتھ بات چیت کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے کہا ہے کہ 'امریکہ کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کر سکتا ہے‘ کیونکہ جوہری ہتھیار چلانے کا بٹن ہر وقت اُن کی میز پر موجود ہوتا ہے۔

سالِ نو کے موقع پر ٹی وی پر نئے سال کے اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ پورا امریکہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی پہنچ میں ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'یہ حقیقت ہے، کوئی دھمکی نہیں۔'تاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے جنوبی کوریا کے لیے زیتون کی ایک مضبوط شاخ کی پیشکش کی جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔


انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا سیول میں ہونے والے سرمائی اولمپکس میں اپنی ٹیم بھیج سکتا ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران جوہری پروگرام اور بار بار میزائل کے تجربے کے سبب شمالی کوریا پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ سیاسی طور پر تنہا کر دیے جانے والے ملک شمالی کوریا نے سال 2017 میں چھ زیر زمین جوہری تجربے کیے اور زیادہ صلاحیت والے میزائل کے تجربے کا مظاہرہ کیا ہے۔ نومبر میں اس نے ہواسانگ-15 کا تجربہ کیا جس نے4475 کلو میٹر کی بلندی پر سفر کیا، جو بین الاقوامی خلائی سٹیشن کی اونچائی سے دس گنا سے بھی زیادہ ہے۔


امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کم کے جوہری بٹن دبانے کی دھمکی کے بارے میں پوچھنے پر مختصراً جواب دیا اور کہا کہ وہ دیکھیں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کم کے نئے سال کے موقع پر دیئے گئے اس بیان پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ کم نے شمالی کوریا کے جوہری تجرباتی پروگراموں کی وجہ سے بڑھتی کشیدگی اور اشتعال انگیز بیانات سے اپنا تسلط قائم کرنے کے ایک سال بعد نئے سال کے موقع پر ٹیلی ویژن میں ملک کے نام پیغام میں امریکہ کو یہ دھمکی دی۔ انہوں نے کوریائی جزائزپر جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی کشیدگی کو کم کرنے کی وکالت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوریا ئی جزائر میں امن قائم کرنے کے لیے شمالی اور جنوبی کوریا کو مل کر کوشش کرنے هوں گے۔ شمالی کوریا نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ اس نے ایسا جوہری ہتھیار تیار کرلیا ہے جسے کبھی بھی میزائل کے ذریعے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ بہر حال بین الاقوامی سطح پر اس کی اصل صلاحیت پر شک و شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


اپنے ٹی وی خطاب میں کم جونگ ان نے اپنے اسلحے کے پروگرام پر توجہ مرکوز کرنے پر دوبارہ زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کو 'بڑے پیمانے پر جوہری ہتھیار اور بیلسٹک میزائل تیار کرنے چاہیے اور ان کی تنصیب میں تیزی لانی چاہیے۔' لیکن انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ جنوبی اور شمالی کوریا ابھی بھی تکنیکی طور پر حالت جنگ میں ہیں لیکن آنے والے سال میں اس میں کمی آ سکتی ہے۔ انھوں نے کہا’’ 2018 شمالی اور جنوبی دونوں کوریا کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ شمالی کوریا اپنی 70 ویں سالگرہ منا رہا ہے جبکہ جنوبی کوریا سرمائی اولمپکس منعقد کروا رہا ہے۔‘‘اس بیان کو پہلے کی بیان بازیوں کے مقابلے میں کم جانگ ان کے لہجے میں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کم جانگ ان نے کہا کہ کھیلوں کے لیے وہ فروری میں اپنا ایک وفد جنوبی کوریا بھیجنے پر غور کریں گے جس کے بارے میں جنوبی کوریا نے کہا تھا کہ وہ ایسے کسی اقدام کا خیر مقدم کریں گے۔


First published: Jan 01, 2018 01:18 PM IST