ہوم » نیوز » عالمی منظر

US Presidential Election : جانئے کس طرح ہوتے ہیں امریکہ میں صدارتی انتخابات اور کیا ہے اس کا پورا پروسیس؟

امریکی انتخابات کو سمجھنے کیلئے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ 244 سال قدیم اس جمہوریت میں ہر چیز کیلئے ایک تاریخ مقرر ہے ۔ یعنی انتخابات کس سال میں ہوں گے ، کس تاریخ کو ہوں گے ، نتائج کب آئیں گے اور نئے صدر کی حلف برداری کب ہوگی ۔

  • Share this:
US Presidential Election : جانئے کس طرح ہوتے ہیں امریکہ میں صدارتی انتخابات اور کیا ہے اس کا پورا پروسیس؟
US Presidential Election : جانئے کس طرح ہوتے ہیں امریکہ میں صدارتی انتخابات اور کیا ہے اس کا پورا پروسیس (AP Photo)

دنیا کی سب سے مضبوط اور قدیم جمہوریت میں انتخابی تہوار کا موسم ہے ۔ اس سال امریکہ اپنا نیا صدر منتخب کرے گا ۔ ویسے تو دنیا بھر میں چار طرح کی حکمرانی کا نظام ہے ۔ صدارتی حکمرانی ، پارلیمانی حکمرانی ، سوئس حکمرانی اور کمیونسٹ حکمرانی ۔ جیسا کہ نام سے ہی معلوم پڑتا ہے کہ امریکہ میں صدارتی حکمرانی نظام ہے ۔ یعنی امریکہ کی حکومت کی باگ ڈور صدر کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ۔ آج ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ امریکہ میں انتخابات کیسے ہوتے ہیں ۔


امریکی انتخابات کو سمجھنے کیلئے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ 244 سال قدیم اس جمہوریت میں ہر چیز کیلئے ایک تاریخ مقرر ہے ۔ یعنی انتخابات کس سال میں ہوں گے ، کس تاریخ کو ہوں گے ، نتائج کب آئیں گے اور نئے صدر کی حلف برداری کب ہوگی ۔ امریکی صدارتی انتخابات کے عمل کا پہلا مرحلہ ہی ہندوستان سے مختلف ہے ۔ ہندوستان میں آپ کو نہیں معلوم ہوگا کہ 2024 میں جب پارلیمانی انتخابات ہوں گے ، تو کن کن تاریخوں کو ہوں گے ، لیکن امریکہ میں کب اگلا الیکشن ہوگا  ، اس کی تاریخ آپ ابھی سے بتاسکتے ہیں ۔


امریکہ میں الیکشن کس سال میں ہوتا ہے ؟


دراصل امریکی صدارتی الیکشن ہر لیپ ایئر میں ہوتا ہے ۔ لیپ ایئر یعنی کہ جو سال کی تعداد ہے وہ چار سے اگر پوری طرح منقسم ہوجائے تو اس کو لیپ ائیر کہتے ہیں ۔ لیپ ایئر میں فروری 29 دن کا ہوتا ہے ۔ ویسے آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی امریکی صدارتی انتخابات مقررہ تاریخ پر ہی ہوئے تھے ۔

ویسے تو امریکی انتخابات کا عمل پورے سال چلتا رہتا ہے ، لیکن آئین کے ذریعہ ووٹنگ اور حلف برداری کی تاریخ طے ہے ۔ ووٹنگ نومبر ماہ کے پہلے منگل کو ہوتی ہے اور نیا صدر اگلے سال 20 جنوری کو حلف لیتا ہے ۔ یہ تاریخیں طے ہیں ۔

ایک بات اور ہے ، اگر آپ کو زیادہ ووٹ ملتے ہیں تو بھی آپ الیکشن جیت جائیں یہ ضروری نہیں ہے ۔ 2016 میں ہلیری کلنٹں کو ڈونالڈ ٹرمپ سے زیادہ ووٹ ملے ، لیکن وہ ہار گئیں ۔

امریکی صدارتی الیکشن ہر لیپ ایئر میں ہوتا ہے ۔
امریکی صدارتی الیکشن ہر لیپ ایئر میں ہوتا ہے ۔ (Reuters)


امریکی صدر کو کون منتخب کرتا ہے؟

امریکی عوام براہ راست طور پر صدر کو منتخب نہیں کرتے ہیں ، ووٹرس پہلے الیکٹورل کالج کیلئے ووٹنگ کرتے ہیں ۔ الیکٹورل کالج میں اتنے ہی اراکین ہوتے ہیں ، جتنے امریکی کانگریس میں ہوتے ہیں ۔ امریکی کانگریس یعنی امریکی پارلیمنٹ ۔ امریکی پارلیمنٹ کے دو ایوان ہیں ۔ سینیٹ اور ہاس آف ریپرزنٹیٹو ۔ سینیٹ ایوان بالا ہے جبکہ ہاس آف ریپرزنٹیٹو ایوان زیریں ہے ۔

حالانکہ یہاں ایوان بالا کا انتخاب ہندوستان سے الگ ہے ۔ ہندوستان میں راجیہ سبھا کے اراکین کا انتخاب بالواسطہ طور پر ہوتا ہے تو وہیں امریکہ میں سینیٹ کے اراکین کا انتخاب عوام براہ راست کرتے ہیں ۔

ہاوس آف ریپرزنٹیٹو میں 435 پلس تھری اراکین ہوتے ہیں ۔ خاص بندوبست کے تحت واشنگٹن ڈی سی کے تین اراکین ہیں ۔ سینیٹ میں 100 اراکین ہوتے ہیں ۔

الیکٹورل کالج میں ہر ریاست کا کوٹہ اتنا ہی ہوتا ہے جتنا ہاوس آف ریپرزنٹیٹو اور سینیٹ میں ہوتا ہے ۔

ویسے تو امریکہ میں ہندوستان کی طرح ہی ملٹی پارٹی سسٹم ہے ، لیکن دو پارٹیاں اتنی طاقتور ہیں کہ انہیں دونوں کے درمیان پورے امریکہ کی سیاست گھومتی رہتی ہے ۔ ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی ۔

لسٹ سسٹم کیا ہے ؟

امریکی الیکٹورل کالج کے الیکشن میں لسٹ سسٹم ہوتا ہے ۔ یعنی الیکشن میں لسٹ ہارتی اور جیتتی ہے ۔ آئیے اس کو آسان الفاظ میں سجھتے ہیں ۔ ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی کیلی فورنیا ریاست کیلئے 55 لوگوں کی فہرست جاری کرے گی ۔ ووٹرس ان 55 لوگوں کیلئے الگ الگ ووٹ نہیں کریں گے بلکہ وہ ریپبلکن پارٹی کی پوری لسٹ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی پوری لسٹ کیلئے ووٹ کریں گے ۔ یعنی یا تو پورے 55 لوگ جیتیں گے یا پھر پورے 55 لوگ ہاریں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کم ووٹ پاکر بھی الیکٹورل کالج میں جیت گئے ۔

پریسیڈنسی پرائمریز سسٹم کیا ہے ؟

ایک اور معاملہ میں امریکی الیکشن ہندوستان یا دیگر ممالک کے مقابلہ میں الگ ہے ۔ بی جے پی یا کانگریس سے اگلا وزیر اعظم امیدوار کون ہوگا یہ کون طے کرتا ہے ؟ کیا عوام طے کرتے ہیں ؟ نہیں ۔ امریکہ میں ریپبلکن پارٹی یا ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدر کے عہدہ کا امیدوار کون ہوگا یہ عوام طے کرتے ہیں ۔ اس میں پارٹی کا رول نہیں ہوتا ہے ۔ ہندوستان میں تو پارٹی کے 10 بڑے لیڈران ہی آپس میں طے کرلیتے ہیں ، لیکن امریکہ میں ایک ہی پارٹی کے کئی لیڈران اپنے نام کا اعلان کرسکتے ہیں ، لیکن اس پارٹی کی طرف سے حتمی امیدوار کون ہوگا ، اس کا فیصلہ عوام کرتے ہیں ۔

امریکہ میں چین سسٹم ہے ۔ صدر کا امیدوار کون ہوگا ، یہ عوام اور پارٹی کے اراکین طے کرتے ہیں ۔ اس کو پریسیڈنسی پرائمریز کہا جاتا ہے ۔ یہ عمل سال 1970 میں شروع ہوا تھا ۔ اس سے پہلے ہندوستان کی طرح ہی وہاں بھی بڑے بڑے لیڈران آپس میں ہی امیدوار طے کر لیتے تھے ۔ امریکہ کی 34 ریاستوں میں پریسیڈنسی پرایمریز سسٹم ہے جبکہ 16 ریاستوں میں کاکس سسٹم ہے ۔ پریسیڈنسی پرائمریز میں عوام طے کرتے ہیں اور کاکس سسٹم میں بڑے بڑے لیڈران طے کرتے ہیں ۔

امریکہ میں اس کیلئے 1970 میں کمیشن بنا تھا اور اس کمیشن نے مشورہ دیا تب کچھ پارٹیوں نے اس کو تسلیم کیا اور کچھ نے نہیں کیا ، اس کیلئے کوئی آئینی قانون نہیں ہے ۔

پریسیڈینشیل پرائمریز کے کارکنان اپنے لیڈر کو منتخب کرتے ہیں ۔ یعنی نیشنل کنوینشن کیلئے الیکشن ہوتا ہے ۔ نیشنل کنوینشن میں ڈیلیگیٹس اور سپر ڈیلیگیٹس ہوتے ہیں ۔ یہ دونوں پارٹیوں کیلئے الگ الگ ہوتا ہے ۔

امریکہ میں چین سسٹم ہے ۔ صدر کا امیدوار کون ہوگا ، یہ عوام اور پارٹی کے اراکین طے کرتے ہیں ۔ (AP Photo/Brynn Anderson)
امریکہ میں چین سسٹم ہے ۔ صدر کا امیدوار کون ہوگا ، یہ عوام اور پارٹی کے اراکین طے کرتے ہیں ۔ (AP Photo/Brynn Anderson)


ڈیلی گیٹس اور سپر ڈیلیگیٹس میں فرق کیا ہے ؟

نیشنل کنوینشن میں جو لوگ ریاستوں سے منتخب ہوکر آتے ہیں ، انہیں ڈیلیگیٹس کہا جاتا ہے جبکہ سپر ڈیلیگیٹس وہ ہوتے ہیں جو اس پارٹی سے پہلے صدر منتخب ہوچکے ہیں ۔ یعنی سابق صدر اور اس پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سپر ڈیلیگیٹس ہوتے ہیں ۔ یہ الیکشن اگست کے ماہ میں ہوتا ہے ۔ نیشنل کنوینشن میں فائنل امیدوار کا انتخاب ہوتا ہے ۔ یعنی ڈیموکریٹک پارٹی کی یا پھر ریپبلکن پارٹی کی طرف سے کون صدر کے عہدہ کا امیدوار ہوگا ، یہ دونوں پارٹیوں کے نیشنل کنوینشن میں طے ہوتا ہے ۔ نیشنل کنوینشن الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ تاریخوں کو ہوتا ہے اور یہ عمل پورے مہینے تک چلتا رہتا ہے ۔

جو بھی شخص صدر کے عہدہ کا امیدوار منتخب ہوتا ہے وہ اپنے من مطابق نائب صدر کے امیدوار کا انتخاب کرسکتا ہے ۔

اس کے بعد تشہیر کیلئے دو ماہ کا وقت ملتا ہے ۔ ستمبر اور اکتوبر کا ۔ ان دو مہینوں میں امریکی انتخابات میں اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں ۔ اخراجات کے معاملہ میں امریکی صدارتی الیکشن دنیا کا سب سے مہنگا الیکشن ہے ۔

امریکہ میں انتخابی تشہیر کیسے ہوتی ہے ؟

حالانکہ وہاں ہندوستان جیسی بڑی بڑی ریلیاں نہیں ہوتی ہیں ۔ وہ بحث ٹی وی پر ہوتی ہے ۔ دونوں پارٹیوں کے امیدوار اپنی بات بحث کے ذریعہ لائیو ٹی وی مباحثہ میں رکھتے ہیں ۔

اس کے بعد نومبر مہینے کے پہلے منگل کو یعنی اس مرتبہ تین نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ اس دن امریکی عوام الیکٹورل کالج کے اراکین کیلئے ووٹ کریں گے ۔ ملک بھر میں ایک ہی دن الیکشن ہوتا ہے ۔ اسی دن صدر کے عہدہ کیلئے ، پارلیمنٹ کے اراکین کیلئے ، کونسلرس یا پھر گورنر عہدہ ہو ، سب کیلئے الیکشن ہوتا ہے ۔

الیکٹورل کالج کے اراکین پر کوئی آئینی بندش تو نہیں ہے ، لیکن جو بھی منتخب ہوکر آتے ہیں وہ اپنی ہی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ کرتے ہیں ۔ جس کو بھی 270 یا اس سے زیادہ ووٹ ملتے ہیں وہ الیکشن جیت جاتا ہے اور اس کے بعد اگلے سال 20 جنوری کو حلف برداری ہوتی ہے ۔

2020 میں ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار کون ہے ؟

اس مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے جو بائیڈن اور ریپبلکن پارٹی کی طرف سے ڈونالڈ ٹرمپ صدر کے عہدہ کیلئے امیدوار ہیں ۔ جو بائیڈن نے کملا ہیرس کو اور ڈونالڈ ٹرمپ نے مائیک پینس کو نائب صدر عہدہ کا امیدوار بنایا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 11, 2020 07:15 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading