உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ترکی کیوں چاہتا ہے کہ Russia-Ukraine کے درمیان ایک فعال ثالث کا کردار ادا کرے؟

    Russia Ukraine War:  اردوغان کی کوششوں کی وجہ سے مارچ میں روس اور یوکرین کے درمیان دو بار مذاکرات ہوئے۔ لیکن اس گفتگو کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کے باوجود ایردوان نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی کوششیں ترک نہیں کی ہیں۔

    Russia Ukraine War: اردوغان کی کوششوں کی وجہ سے مارچ میں روس اور یوکرین کے درمیان دو بار مذاکرات ہوئے۔ لیکن اس گفتگو کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کے باوجود ایردوان نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی کوششیں ترک نہیں کی ہیں۔

    Russia Ukraine War: اردوغان کی کوششوں کی وجہ سے مارچ میں روس اور یوکرین کے درمیان دو بار مذاکرات ہوئے۔ لیکن اس گفتگو کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کے باوجود ایردوان نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی کوششیں ترک نہیں کی ہیں۔

    • Share this:
      جب سے روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے، ترک صدر رجب طیب اردوغان (Recep Tayyip Erdogan) خود کو واحد شخص کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرا سکتے ہیں۔ اردوغان کی کوششوں کی وجہ سے مارچ میں روس اور یوکرین کے درمیان دو بار مذاکرات ہوئے۔ لیکن اس گفتگو کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کے باوجود ایردوان نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی کوششیں ترک نہیں کی ہیں۔ حال ہی میں، جب فن لینڈ نے نیٹو میں شمولیت کا اعلان کیا ہے، ایردوان ابھی تک سرگرم ہیں۔ آخر ترکی اور اردگان روس یوکرین کے تنازع میں اتنے متحرک کیوں ہیں؟

      ترکی کی صورتحال
      ترکی کی صورتحال اس وقت باقی دنیا سے کچھ مختلف ہے۔ ترکی اقتصادی معاملات کے حوالے سے روس کے قریب ہے اور ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت میں رکاوٹیں بھی اس کی ایک وجہ ہیں۔ خود ترک عوام واضح طور پر مغرب کے حق میں یا مخالف نہیں ہیں۔ رواں سال جنوری میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق جہاں ترکی کے 39.5 فیصد شہری روس اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتے ہیں وہیں 37.5 فیصد لوگ امریکہ اور یورپی یونین کے قریب جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

      Heavy Rain:کچھ گھنٹےکی بارش سےبےحال ہوابنگلورو،سڑکیں بنی تالاب، کئی جگی سیلاب جیسی صورتحال

      یوکرین روس دونوں کے ساتھ ؟
      اردگان نے اس صورتحال کے پیش نظر روس کے یوکرین حملے کی مذمت کی ہے جبکہ یہ بھی کہا ہے کہ یہ تنازع برسوں کی توسیع پسندی کا نتیجہ ہے جس نے دیوار برلن کے گرنے کے بعد ہونے والے معاہدوں کا احترام نہیں کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکی اور یوکرین کے تعلقات بھی کم گہرے نہیں ہیں، دونوں ممالک میں تاتار نسل کے لوگ رہتے ہیں، جو انہیں ایک دوسرے کے ساتھ باندھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

       

      مہنگے کروڈ کے بیچ کمپنیوں نے جاری کئے Petrol۔Dieselکے نئے دام، یہاں چیک کریں تیل کی قیمتیں

      ترکی اور یوکرین
      ترکی اور یوکرین کے درمیان اقتصادی اور فوجی تعلقات بھی ہیں۔ ترکی 2020 میں یوکرین میں ایک بڑا غیر ملکی سرمایہ کار تھا اور 2021 میں دونوں کے درمیان فوجی اور تجارتی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ ترکی نے فوجی تعلقات کی وجہ سے یوکرین کو 185 ملین ڈالر کی فوجی امداد دی ہے۔ ترکی اور یوکرین بحیرہ کوکالا کے علاقے میں سلامتی اور امن کی ضمانت دے رہا تھا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: