اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کیمرون اور اٹلی میں لینڈ سلائیڈنگ سے 21 کی موت، لاپتہ لوگوں کی تلاش جاری

    کیمرون اور اٹلی میں لینڈ سلائیڈنگ سے 21 کی موت، لاپتہ لوگوں کی تلاش جاری

    کیمرون اور اٹلی میں لینڈ سلائیڈنگ سے 21 کی موت، لاپتہ لوگوں کی تلاش جاری

    گنجان آبادی والا ایسچیا ایک آتش فشاں جزیرہ ہے جو نیپلس سے قریب 30 کلو میٹر دور واقع ہے۔ اس کے تھرمل باتھ اور دلکش ساحل سمندر سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Italy
    • Share this:
      کیمرون کے دارالحکومت یاؤنڈے میں اتوار کو ہوئی لینڈ سلائیڈنگ میں آخری رسومات میں شامل ہونے والے 14 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ سینٹرل علاقے کے گورنر نسیری پال بی نے یہ اطلاع دی۔ انہوں نے مقام حادثہ پر میڈیا کو بتایا کہ، ’ہم نعشوں کو مرکزی اسپتال کے مردہ گھر میں لے جارہے ہیں، جب کہ دیگر لوگوں یا نعشوں کی تلاش ابھی بھی جاری ہے۔‘

      یاونڈے افریقہ کے سب سے گیلے شہروں میں سے ایک ہے۔ بھاری بارش سے اس سال پورے ملک میں سیلاب نے بڑی تباہی مچائی ہوئی ہے۔ اس نے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کردیا ہے، جس سے ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔

      اٹلی کے ایسچیا آئی لینڈ پر لینڈسلائیڈنگ سے 7 کی موت
      اٹلی کے ایسچیا جزیرے پر لینڈ سلائیڈنگ سے سات لوگوں کی موت ہوگئی ہے، جس میں ایک نوزائیدہ اور دو بچے شامل ہیں۔ پانچ لوگ ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ درجنوں ایمرجنسی اہلکار جزیرے پر پہنچے۔ غوطہ خوروں نے بھی پانی میں تلاشی لی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      شمالی کوریا کا آخری ٹارگیٹ، دنیا کی مضبوط ترین ایٹمی طاقت حاصل کرنا ہے: کم جونگ ان

      چین میں بڑے پیمانے پر چوکسی اور سول نافرمانی، یونیورسٹیاں شی جن پنگ کے خلاف بڑھتے .....!

      یہ بھی پڑھیں:

      روس میں محسوس کیے گئے زلزلے کے جھٹکے، ریکٹر اسکیل پر جانئے کتنی رہی شدت

      ’چینی ٹرولرز اسلام کی توہین اور پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب، دی امریکہ ٹائمز

      جزیرے پر غیر قانونی طور سے بنائے گئے گھر
      گنجان آبادی والا ایسچیا ایک آتش فشاں جزیرہ ہے جو نیپلس سے قریب 30 کلو میٹر دور واقع ہے۔ اس کے تھرمل باتھ اور دلکش ساحل سمندر سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اسچیا میں ایسے مکانات کی ایک بڑی تعداد ہے جو غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس سے لوگوں کو سیلاب اور زلزلے کے خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: