وہاٹس ایپ کال پر ٹیکس لگنے سے بھڑکے لوگ، پرتشدد احتجاج کے بعد حکومت نے بدلافیصلہ

در اصل حکومت کو بجٹ کی رقم جٹانے کیلئے قرض لینا پڑرہا ہے۔ یہ بوجھ کم کرنے کیلئے اس نے جمعرات 17 اکتوبر کو وہاٹس ایپ ار فیس بک کی وائس کال پر ہر مہینے 150 روپئے کا چارج لگانے کا اعلان کیا تھا۔ مگر اس کے خلاف لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا۔

Oct 19, 2019 03:01 PM IST | Updated on: Oct 19, 2019 03:01 PM IST
وہاٹس ایپ کال پر ٹیکس لگنے سے بھڑکے لوگ، پرتشدد احتجاج کے بعد حکومت نے بدلافیصلہ

لبنان میں وہاٹس ایپ ، فیس بک سمیت انٹرنیٹ سے کی جانے والی ہر طرح کی وائس کال پر ٹیکس لگانے کا منصوبے کو واپس لے لیا گیا۔ در اصل حکومت کو بجٹ کی رقم جٹانے کیلئے قرض لینا پڑرہا ہے۔ یہ بوجھ کم کرنے کیلئے اس نے جمعرات 17 اکتوبر کو وہاٹس ایپ ار فیس بک کی وائس کال پر ہر مہینے 150 روپئے کا چارج لگانے کا اعلان کیا تھا۔ مگر اس کے خلاف لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ ان کے پر تشدد احتجاج کے بعد حکومت نے اپنا یہ منصوبہ کچھ ہی گھنٹے میں واپس لے لیا۔

<br ٹیکس کو لیکر لوگ اتنے غصے میں تھے کہ راجدھانی بیروت مں سرکاری دفتروں کے باہر مظاہرین نے ٹائرجلائے اور گاڑیاں بھی پھونک دیں۔ اس پر تشدد جھڑپ میں کئی لوگ زخمی بھی ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق مطاہرین نے ایئرپورٹ پر مسافروں سے مارپیٹ کی۔

<br لبنان کے مواصلات کے وزیر محمد چوکیر نے جمعہ کو 18 اکتوبر کو اعلان کیا کہ وہاٹس ایپ سمیت کسی بھی ایپ سے آن لائن کال پر کسی طرح کا ٹیکس نہیں لگے گا۔ چوکیر نے بتایا کہ وزیر اعظم سعد حریری کی مخالفت پر وہاٹس ایپ کال پر لگنے والے چارج کو رد کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ اس مسئلے پر اب کابینہ میں اس پر چرچا نہیں کی جائے گی اور سبھی سروس پہلے کی طرح مہیا رہیں گی۔

Loading...

Loading...