உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UNSC: لشکرطیبہ اورجیش محمدکےدرمیان روابط خطےکیلئےخطرہ! ہندوستان نےکیااپنےموقف کااظہار

    ’’اقلیتی برادریوں کی عبادت گاہوں پر دہشت گردانہ حملے اور بے گناہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا ایک سنگین تشویش کا باعث ہے‘‘۔

    ’’اقلیتی برادریوں کی عبادت گاہوں پر دہشت گردانہ حملے اور بے گناہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا ایک سنگین تشویش کا باعث ہے‘‘۔

    اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی (T S Tirumurti) نے یو این اے ایم اے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی اور حملے کرنے کی ان کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    • Share this:
      ہندوستان نے جمعرات کو کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UN Security Council) کے کالعدم گروپوں جیسے لشکر طیبہ اور جیش محمد کے درمیان روابط خطے کے لئے براہ راست خطرہ ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے متحد بین الاقوامی کارروائی پر زور دیا کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہ نہ بن جائے اور ممنوعہ اداروں کو کسی قسم کی حمایت حاصل نہ ہو۔

      خطے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بڑھنے کا بھی خدشہ لاحق ہے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی (T S Tirumurti) نے یو این اے ایم اے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی اور حملے کرنے کی ان کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

      اسلامک اسٹیٹ خراسان، اسلامک اسٹیٹ (ISI) کے عسکریت پسند گروپ سے منسلک ہے۔ جس کا اڈہ مبینہ طور پر افغانستان میں ہے، جو دوسرے ممالک پر دہشت گرد حملوں کی دھمکیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: BRICSکیا ہے؟ کب ہوا تھا اس کا قیام اور کیا ہے اس کے اصل مقاصد؟

      انہوں نے 1988 کی پابندیوں کی کمیٹی کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹ کے حالیہ نتائج کا حوالہ دیا جس میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں موجودہ حکام کو انسداد دہشت گردی کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے بہت زیادہ مضبوط کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: ’چین کرےعالمی قانون کااحترام، ہندوستان کےساتھ بات چیت کےسرحدی تنازع کوکرےحال‘ Australia

      رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان نے ابھی تک خود کو دوسرے دہشت گرد گروپوں جیسے القاعدہ سے الگ نہیں کیا ہے جو بدستور فعال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی فہرست میں شامل گروپوں جیسے لشکر طیبہ اور جیش محمد کے درمیان روابط کے ساتھ ساتھ افغانستان سے باہر کام کرنے والے دیگر دہشت گرد گروپوں کے اشتعال انگیز بیانات خطے کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: