உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine Crisis:لیسیچانسک شہر پر روس کا قبضہ، 2000 یوکرینی فوجیوں کو بھی گھیرا

    روس-یوکرین لڑائی میں آئی شدت۔ روس نے مزید یوکرینی علاقوں پر کیا قبضہ۔

    روس-یوکرین لڑائی میں آئی شدت۔ روس نے مزید یوکرینی علاقوں پر کیا قبضہ۔

    Russia Ukraine Crisis: ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد، یوکرین کی افواج ملک کے مشرق میں روسی فوجیوں سے گھرے شہر سے پیچھے ہٹ جائیں گی۔ ایک علاقائی گورنر نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ لوہانسک کے علاقے کا انتظامی مرکز سیوروڈونسک شہر مسلسل روسی بمباری کی زد میں ہے۔

    • Share this:
      Russia Ukraine Crisis:روسی افواج نے جمعہ کے روز مشرقی لوہانسک کے علاقے میں منصوبہ بندی کے لحاظ سے اہم شہر لیسیچانسک پر قبضہ کر لیا۔ یوکرین نے یہ اطلاع دی ہے۔ دوسری جانب ماسکو نے بھی یہی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں 80 غیر ملکی جنگجوؤں سمیت تقریباً 2000 یوکرینی فوجیوں کو اس نے گھیرے میں لے لیا ہے۔

      یوکرین کے زیر قبضہ آخری علاقہ لوہانسک کو روس نے لیسیچانسک پر قبضے کے بعد تین اطراف سے گھیر لیا ہے۔ علاقائی انتظامیہ کے ترجمان نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ہیرسکے اور دیگر علاقے پہلے ہی غاصب افواج کے قبضے میں جا چکے ہیں۔ علاقائی انتظامیہ کے ترجمان نے کہا کہ پورا ہیرسکے علاقہ روسی قبضے میں ہے۔

      محاصرے سے بچنے کے لئے شہر چھوڑے گی یوکرینی فوج
      ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد، یوکرین کی افواج ملک کے مشرق میں روسی فوجیوں سے گھرے شہر سے پیچھے ہٹ جائیں گی۔ ایک علاقائی گورنر نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ لوہانسک کے علاقے کا انتظامی مرکز سیوروڈونسک شہر مسلسل روسی بمباری کی زد میں ہے۔ یہاں یوکرین کے فوجیوں نے ایک کیمیکل پلانٹ میں ڈیرا ڈال رکھا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia Ukraine Crisis:یوروپی یونین نے یوکرین کو امیدوار کا درجہ دیا، دو گاوؤں پرروس کاقبضہ

      یہ بھی پڑھیں:
      UN Report:جانیے-روزانہ کتنے ہزار لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں؟اقوام متحدہ کی رپورٹ

      گورنر سیرہی حیدائی نے کہا کہ روسی فوج نے یہاں اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے اور ہمیں اپنے لوگوں کو واپس کرنا ہو گا۔ یہاں کمزور قلعہ بند علاقوں میں ہلاکتیں روز بروز بڑھتی جائیں گی۔ چنانچہ یوکرائنی افواج کو پسپائی اختیار کرنے اور نئی جگہوں پر جمع ہونے اور وہاں سے لڑائی جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: