உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Britain New PM Liz Truss: لیز ٹرس برطانیہ کی نئی وزیر اعظم منتخب، رشی سنک کو ہرایا

    Britain New PM Liz Truss: لیز ٹرس برطانیہ کی نئی وزیر اعظم منتخب، رشی سنک کو ہرایا (AP)

    Britain New PM Liz Truss: لیز ٹرس برطانیہ کی نئی وزیر اعظم منتخب، رشی سنک کو ہرایا (AP)

    Britain New PM Liz Truss: برطانیہ کو نیا وزیر اعظم مل چکا ہے ۔ سابق وزیر خارجہ لیز ٹرس نئی وزیر اعظم منتخب کی گئی ہیں ۔ ٹرس نے کانٹے کی ٹکر میں ہند نژاد رشی سنک کو ہرا دیا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • interna, Indialondonlondonlondon
    • Share this:
      لندن : برطانیہ کو نیا وزیر اعظم مل چکا ہے ۔ سابق وزیر خارجہ لیز ٹرس نئی وزیر اعظم منتخب کی گئی ہیں ۔ ٹرس نے کانٹے کی ٹکر میں ہند نژاد رشی سنک کو ہرا دیا ہے ۔ لیز ٹرس برطانیہ کی تاریخ کی تیسری ایسی خاتون ہیں، جو وزیر اعظم کی کرسی پر قابض ہوئی ہیں ۔ اس سے پہلے مارگریٹ تھیچر اور تھیریسا مے برطانیہ میں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال چکی ہیں ۔ برطانیہ کی تینوں خاتون وزیر اعظم کنزرویٹیو پارٹی کی ہوئی ہیں ۔ لیز ٹرس گزشتہ چھ سالوں میں ملک کی چوتھی وزیر اعظم بھی ہیں ۔ اس سے پہلے ڈیوڈ کیمرن ، تھیریسا مے ، بورس جانسن 2016 سے لے کر 2022 تک الگ الگ مدت میں وزیر اعظم کے عہدہ پر رہے ہیں ۔

      لیز ٹرس کو برطانیہ کی سیاست میں فائربرانڈ لیڈر کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ دو مہینے چلی انتخابی مہم میں ان کی اپروچ کبھی دفاعی نہیں رہی ۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم منتخب کئے جانے کے بعد وہ ڈاوننگ اسٹریٹ کے پاس ایک چھوٹی سی تقریر کریں گی ۔ یہ صرف ایک روایت ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے:  وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی ایرانی ہم منصب سے فون پر ’’اہم‘‘ بات چیت


      سات جولائی کو بورس جانس نے پارٹی لیڈر کے عہدہ سے استعفی دیدیا تھا ۔ اس کے بعد کنزرویٹیو پارٹی میں ان کا مقابلہ ہند نژاد رشی سنک سے تھا ۔ پارٹی کے تقریبا 1.60 لاکھ اراکین نے ووٹنگ کی ۔ کنزرویٹیو پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کی ووٹنگ کے پانچ راونڈ میں سنک نے لیز ٹرس کو مات دی تھی، لیکن حتمی فیصلہ تو اس پارٹی کے تقریبا ایک لاکھ ساٹھ ہزار رجسٹرڈ ممبرس کرتے ہیں اور اس میں لیز نے بازی مار لی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے:  کینیڈاکےصوبہ سسکیچیوان میں چاقوسے حملہ، 10 افرادہلاک، کئی زخمی


      لیز ٹرس ہمیشہ سے ہی بورس جانسن کی پسند رہی ہیں ۔ جانسن پورے انتخابی عمل میں سنک کے حق میں نہیں تھے ۔ انہوں نے کئی مواقع پر کہا تھا کہ کسی کو بھی وزیر اعظم کیلئے منتخب کیجئے، لیکن رشی سنک کو بالکل نہیں ۔ بتادیں کہ جانسن سرکار میں سب سے پہلے رشی سنک نے ہی استعفی دیا تھا ۔

      کس کو کتنے ووٹ ملے

      لیز ٹرس :81,326

      رشی سنک: 60,399

      کل ووٹ تھے : 172,437

      کل ووٹنگ : 82.6%

      ووٹ ریجیکٹ ہوئے : 654

      اب آگے کیا ہوگا

      چھ ستمبر یعنی منگل کو بورس جانسن پی ایم ہاوس 10 ڈاوننگ اسٹریٹ سے بطور وزیر اعظم آخری تقریر کریں گے ۔ اس کے بعد ملکہ ایلزابیتھ کو استعفی سوپنے کیلئے اسکاٹ لینڈ کے ایبرڈین شائر روانہ ہوں گے ۔ فی الحال ملکہ ایلزابیتھ یہی ہیں ۔ 96 سالہ ملکہ کو چلنے میں پریشانی ہے، لہذا جانسن اور لیز دونوں ان کے پاس جائیں گے ۔ عام طور پر یہ کام برکنگھم پیلیس میں کیا جاتا رہا ہے ۔

      کسنگ ہینڈس تقریب ہوگی

      جانس کے استعفی کے بعد لیز ٹرس کوئن سے ملیں گی ۔ روایتی طور پر اس ملاقات کو کسنگ ہینڈس تقریب کہا جاتا ہے ۔ حالانکہ اس مرتبہ کوئن کی خراب صحت کے پیش نظر یہ تقریر علامتی طور پر ہوگی ۔ حلف برداری پروگرام اسکاٹ لینڈ کے بالمورل کیسل میں ہوگا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: