ملیشیا کے پی ایم کا دعویٰ۔ وزیر اعظم مودی نے ذاکر نائک کی حوالگی پر نہیں کی کوئی بات

مہاتیر محمد نے کہا ’’ کوئی ملک اسے لینا نہیں چاہتا ہے۔ میں نے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی لیکن انہوں نے اس کی حوالگی کو لے کر کچھ نہیں کہا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ شخص ہندوستان کے لئے بھی دقتیں پیدا کرے‘‘۔

Sep 17, 2019 12:26 PM IST | Updated on: Sep 17, 2019 12:40 PM IST
ملیشیا کے پی ایم کا دعویٰ۔ وزیر اعظم مودی نے ذاکر نائک کی حوالگی پر نہیں کی کوئی بات

ذاکر نائک: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے دعویٰ کیا ہے کہ متنازعہ اسلامی مبلغ ذاکر نائک کی حوالگی کو لے کر وزیر اعظم مودی نے ان سے کوئی بات نہیں کی ہے۔ اسی ماہ روس کے دورہ کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت ہوئی تھی۔ بتا دیں کہ ذاکر نائک پر شدت پسندوں کو بھڑکانے اور منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔

مہاتیر محمد نے کہا ’’ کوئی ملک اسے لینا نہیں چاہتا ہے۔ میں نے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی لیکن انہوں نے اس کی حوالگی کو لے کر کچھ نہیں کہا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ شخص ہندوستان کے لئے بھی دقتیں پیدا کرے‘‘۔

مقامی میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ذاکر نائک نے قانون توڑا ہے اور اسے بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا ’’ ذاکر نائک اس ملک کا شہری نہیں ہے۔ اسے پچھلی حکومت نے یہاں رہنے کی اجازت دی تھی۔ ایسے میں اسے اس ملک کی سیاست اور سسٹم پر بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ ذاکر نے ایسا کر کے قانون توڑا ہے اور اب اسے بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔

Loading...

حوالگی پر کیا کہا تھا ہندوستان نے

بتا دیں کہ اسی مہینے روس کے دورے پر گئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران انہوں نے ذاکر نائک کی حوالگی کا معاملہ اٹھایا تھا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے نے کہا تھا کہ وزیر اعظم مودی نے ذاکر نائک کی حوالگی کا معاملہ اٹھایا اور ساتھ ہی دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق ظاہر کیا کہ یہ معاملہ دونوں ملکوں کے لئے کافی اہم ہے۔ لہذا دونوں ملکوں کے حکام اس معاملہ پر ایک دوسرے کے رابطہ میں رہیں گے۔

Loading...