Choose Municipal Ward
    CLICK HERE FOR DETAILED RESULTS
    ہوم » نیوز » عالمی منظر

    مالدیپ کی ایمرجنسی کی میعاد میں 30 دنوں کی توسیع

    مالے / نئی دہلی۔ مالدیپ نے ہندوستان کے مشورہ کو نظر انداز کر تے ہوئے ملک میں ایمرجنسی کی مدت کو مزید ایک ماہ تک بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

    • UNI
    • Last Updated: Feb 21, 2018 10:36 AM IST
    • Share this:
    • author image
      NEWS18-Urdu
    مالدیپ کی ایمرجنسی کی میعاد میں 30 دنوں کی توسیع
    مالدیپ کے صدر عبد اللہ یامین: فائل فوٹو، رائٹرز۔

    مالے / نئی دہلی۔  مالدیپ نے  ہندوستان کے مشورہ کو نظر انداز کر تے ہوئے ملک میں ایمرجنسی کی مدت کو مزید ایک ماہ تک بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ مالدیپ کے ایک نیوز پورٹل نے خبر دی ہے کہ کل شام کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں ایمرجنسی 30 دنوں کے لئے بڑھانے کی صدر عبداللہ یامین کی درخواست کومنظوری دے دی گئی ہے۔ اب ملک میں ایمرجنسی 22 مارچ تک نافذ رہے گی۔ صدر نے پانچ فروری کو ملک میں 15 دنوں کے لئے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی مدت کل رات آٹھ بجے ختم ہو رہی تھی۔


    پارلیمنٹ کے اجلاس میں حکمراں فریق کے 38 رہنما صدر کی تجویز پر ووٹنگ کے لئے موجود تھے جبکہ اس تجویز کو منظوری دینے کے لئے ممبران پارلیمنٹ کی کم از کم ضروری تعداد 43 ہے۔ اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ حکمراں پروگریسو پارٹی آف مالدیپ ( پی پی ایم ) اور مالدیپ ڈیولپمنٹ الائنس ( ایم ڈی اے) نے کل ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں ایمرجنسی بڑھانے کی تجویز پیش کریں گے۔ خیال رہے کہ مالدیپ کی پارلیمنٹ کےاس اجلاس سے پہلے ہی نئی دہلی میں وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے مالدیپ حکومت سے ایمرجنسی نہیں بڑھانے، جمہوریت کو بحال کر کے جمہوری اداروں کو آئین کے مطابق آزاد، منصفانہ اور شفاف طریقے سے کام کرنے کی اجازت دینے اور سپریم کورٹ کے یکم فروری کے فیصلے کو حرف بہ حرف نافذ کرنے اور سیاسی عمل شروع کرنے كو کہا تھا۔


    ہندوستان نے یہ بھی کہا کہ "یہ بہت اہم ہے کہ مالدیپ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی راہ پر فوری طور پر واپس آئے تاکہ وہاں کے عوام کی توقعات کو پورا کیا جا سکے اور بین الاقوامی برادری کے خدشات کو دور کیا جا سکے"۔ ہندوستان کی جانب سے یہ سخت بیان ان اطلاعات کے درمیان تھا جن میں کہا گیا ہے کہ چین نے علاقائی طاقت کے توازن میں مداخلت کرتے ہوئے ہندوستان اور آسٹریلیا کومالدیپ سے دور رکھنے کے مقصد سے اپنا جنگی بیڑہ بحر ہند میں تعینات کیا ہے۔ تاہم، ہندوستان نے ان رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالدیپ کے آس پاس کوئی چینی جنگی جہازنہیں ہے۔


    اس دوران آج یہ خبر بھی آئی کہ مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید نے دو روز پہلے بنگلور میں انگریزی اخبار 'دی ہندو' کے ایک پروگرام کے دوران وزیر دفاع نرملا سیتا رمن سے ملاقات کی ہے۔ حکومت ہند نے اگرچہ اس ملاقات کی بات قبول کی ہے لیکن اس بات سے انکار کیا کہ دونوں کے درمیان مالدیپ کے بارے میں کوئی بات چیت ہوئی ہے۔


    First published: Feb 21, 2018 10:36 AM IST
    corona virus btn
    corona virus btn
    Loading