ہوم » نیوز » عالمی منظر

اس خاص وجہ سے یہ شخص پیتا ہے اپنا ہی پیشاب ، ایک مہینے بوتل میں جمع کرکے بنادیتا ہے 'دوائی'

برطانیہ (Britain) کے ہیمپشائر کے فارن بورف میں رہنے والا ہیری (Harry Matadeen) اپنی گلوئنگ اسکن کیلئے ہر دن اپنا پیشاب پیتا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ پیشاب پینے سے اس کو توانائی ملتی ہے ۔

  • Share this:
اس خاص وجہ سے یہ شخص پیتا ہے اپنا ہی پیشاب ، ایک مہینے بوتل میں جمع کرکے بنادیتا ہے 'دوائی'
اس خاص وجہ سے یہ شخص پیتا ہے اپنا ہی پیشاب، ایک مہینے بوتل میں جمع کرکے بنادیتا ہے 'دوائی'

دنیا میں ایسے کئی لوگ ہیں جو اپنی صحت اور امیونٹی کیلئے طرح طرح کے گھریلو نسخوں کا استعمال کرتے ہیں ۔ کوئی کسی پھل کے فیس پیک کو چہرے پر لگاتا ہے تو کوئی شراب سے لے کر بیئر تک پیتا ہے ۔ لیکن کیا آپ کبھی کسی ایسے انسان کے بارے میں سنا ہے ، جو چمکتی جلد کیلئے پیشاب پیتا ہے ؟ جی ہاں ، برطانیہ کے ہیمپشائر کے فارن بورف میں رہنے والا ہیری اپنی گلوئنگ اسکن کیلئے ہر دن اپنا پیشاب پیتا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ پیشاب پینے سے اس کو توانائی ملتی ہے ۔


ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق ہیری ہر دن اپنا پیشاب پیتا ہے ۔ اس سے اس کو کافی توانائی محسوس ہوتی ہے ۔ ساتھ ہی پیشاب پینے سے اس کی جلد میں چمک آجاتی ہے ۔ پیشاب اندر سے جلد کی مرمت کرکے اس کو ماسچرائز کرتا ہے ۔ ہیری کا دعوی ہے کہ پیشاب پینے سے وہ ڈپریشن سے باہر نکل گیا ہے ۔


ہیری نے میڈیا کو بتایا کہ پیشاب اگر ایک محدود مقدار میں پی جائے تو جسم پر اس کا اچھا اثر پڑتا ہے ۔ خود ہیری ہر دن 200 ایم ایل پیشاب پیتا ہے ۔ پیشاب کو پینے سے پہلے ہیری اس کو بوتل میں جمع کرتا ہے اور اس کے بعد پیشاب کو کچھ ہفتوں یا مہینے کیلئے رکھنے کے بعد پیتا ہے ۔


پیشاب پر لکھی کتاب

ہیری نے اپنی اس عادت پر کتاب بھی لکھی ہے ۔ پاور آف ایزڈ یورین تھیراپی کے ذریعہ ہیری نے لکھا کہ کیسے پیشاب کے ذریعہ کئی بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے ۔ ہیری کا کہنا ہے کہ پیشاب ایک طاقتور دوا ہے ، اس کو پینے سے انسان صحت مند رہتا ہے اور اس کو جلد کوئی بیماری نہیں لاحق ہوتی ہے ۔

باپ نے بتایا گھنونا

اپنے بیٹے کے پیشاب پینے کی عادت سے اس کے والد تنگ آگئے ہیں ۔ انہوں نے کئی مرتبہ ہیری کو پیشاب نہ پینے کیلئے کہا ہے ۔ ہیری کے والد کا کہنا ہے کہ وہ بدبودار ہے ، اس کو دیگر لوگوں کی طرح پیشاب کو ٹوائلٹ میں فلش کرنا چاہئے نہ کہ پینا چاہئے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 17, 2021 05:51 PM IST