உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہند۔ پاک کے درمیان تنازعات کو حل کرنا دنیا کا سب سے آسان کام : منی شنکر ایر

    اسلام آباد۔  ہندوستان کے سابق سفارتکار اور رکن پارلیمنٹ منی شنکر ایر نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات کو حل کرنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے لیکن اس کے لئے عزم کا ہونا ضروری ہے۔

    اسلام آباد۔ ہندوستان کے سابق سفارتکار اور رکن پارلیمنٹ منی شنکر ایر نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات کو حل کرنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے لیکن اس کے لئے عزم کا ہونا ضروری ہے۔

    اسلام آباد۔ ہندوستان کے سابق سفارتکار اور رکن پارلیمنٹ منی شنکر ایر نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات کو حل کرنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے لیکن اس کے لئے عزم کا ہونا ضروری ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      اسلام آباد۔  ہندوستان کے سابق سفارتکار اور رکن پارلیمنٹ منی شنکر ایر نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات کو حل کرنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے لیکن اس کے لئے عزم کا ہونا ضروری ہے۔



      کراچی میں ہندوستان کےسابق قونصلر جنرل مسٹر ایئر نے لاہور میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب’’نائدر اے ہاکس نار ڈو‘‘ کے اجرا کے موقع پر کل کہا کہ 70 سال میں اگر ہم ہندوستان اور پاکستان کے تنازعات کو حل نہیں کر سکے تو اس کی صرف ایک وجہ تھی کہ ہم نے ایک دوسرے کو کافی موقع نہیں دیا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جب کبھی بات چیت کرنے کا موقع آیا کنٹرول لائن کے واقعات نے اس پر پانی پھیر دیا اور بات چیت ٹوٹ گئی۔



      مسٹر ایر نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مجموعی طور بات چیت بغیر رکاوٹ کے فوری طور پر شروع ہونی چاہئے اور وہ بغیر رکاوٹ چلنی چاہئے۔ دونوں فریقوں کو بات چیت کے پلیٹ فارم پر آکر وہاں اپنی تمام تشویشات کو رکھنا اور اسے دور کرنا چاہئے۔مسٹر ایر نے کہا کہ دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے امن کوشش ناکام ہوئے۔ دونوں ممالک کو امن کے عمل کو یرغمال نہیں بننے دینا چاہئے۔ جو عناصر اسےیرغمال بنانا چاہتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے۔پاکستان کو دہشت گردوں کو ہندوستان کے خلاف اپنی زمین کے استعمال کی اجازت نہیں دینی چاہئے اور اسی طرح ہندوستان کو قبول کرنا چاہئے کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک ہے۔



      مسٹر ایر نے بعد میں نامہ نگاروں سے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ہندوستان اور پاکستان  کبھی پانی کے بارے میں جنگ کریں گے کیونکہ اسے تو 40 سال پہلے ہی سندھ پانی معاہدے کے ساتھ حل کر لیا گیا ہے۔بعد میں پینل بحث کے دوران مسٹر قصوری نے کہا کہ ان کے وزیر خارجہ کی مدت کے دوران جو ڈھانچہ تیار کیا گیا تھا، اس پر پھر سے عمل ہونا چاہئے اور دونوں ممالک کو اپنا تعلق بہتر بنانا چاہئے۔

      First published: