உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Food Crisis Reason:ان وجوہات سے ہوئی کھانے پینے کی چیزیں مہنگی،WTOنے دیا جواب

    دنیا میں کیوں ہوئی اشیائے خوردونوش کی کمی، وجہ آئی سامنے۔

    دنیا میں کیوں ہوئی اشیائے خوردونوش کی کمی، وجہ آئی سامنے۔

    Food Crisis Reason: جن ممالک نے غذائی اجناس پر پابندی عائد کی ہے ان میں قازقستان، کیمرون، ارجنٹائن، انڈونیشیا، ترکی، مصر، ایران، گھانا، کویت، روس، یوکرین، ہنگری، لبنان، آذربائیجان، پاکستان جیسے ممالک شامل ہیں۔

    • Share this:
      Food Crisis Reason: اس وقت پوری دنیا میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور اشیائے خوردونوش کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار دنیا کے 21 ممالک کو قرار دے رہی ہے جنہوں نے اشیائے خوردونوش کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہی نہیں کھانے پینے کا ضیاع بھی ایک بڑی وجہ ہے، جس پر قابو پا کر مسئلہ کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔

      ترقی یافتہ ممالک بھی ذمہ دار
      دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے گھروں میں کھانے پینے کی اشیاء کا فی کس ضیاع بھی ہندوستان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں سالانہ 102 کلوگرام خوراک فی شخص ضائع ہوتی ہے۔

      کہاں ہوتی ہے کتنی بربادی؟
      دوسری جانب سالانہ فی کس خوراک کا ضیاع برطانیہ میں 77 کلو، سعودی عرب میں 105 کلو، فرانس میں 85 کلو، چین میں 64 کلو، جاپان میں 64 کلو، جرمنی میں 75 کلو، کینیڈا میں 79 کلو گرام ہے۔ ہندوستان کے گھروں میں سالانہ 50 کلوگرام خوراک فی شخص ضائع کرتا ہے اور جنوبی افریقہ میں یہ 40 کلوگرام ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      IMFنےپاکستان کو6بلین ڈالر کے بیرونی فنڈنگ سہولت کی اگلی قسط جاری کرنے سے کردیا انکار

      ان ممالک نے لگائی ایکسپورٹ پر پابندی
      جن ممالک نے غذائی اجناس پر پابندی عائد کی ہے ان میں قازقستان، کیمرون، ارجنٹائن، انڈونیشیا، ترکی، مصر، ایران، گھانا، کویت، روس، یوکرین، ہنگری، لبنان، آذربائیجان، پاکستان جیسے ممالک شامل ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Monkeypox: متحدہ عرب امارات میں مونکی پوکس کاپہلاکیس! افریقہ سےواپس آنےوالی خاتون متاثر

      اس لئے اشیائے خوردونوس کی ہوئی کمی!
      ان ممالک نے بنیادی طور پر گندم، چینی، مکئی، سویا بین، سورج مکھی، سبزیاں، چاول، مکئی، آلو، ٹماٹر، پیاز، مشروم، گوشت، آٹا، چکن کا گوشت، پھل، انڈے، مویشی، پام آئل جیسی چیزوں کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ ان وجوہات کی وجہ سے عالمی سطح پر اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور دنیا بھر کے ممالک میں اشیائے خوردونوش مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: