உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کابل ایئرپورٹ کی طرف بڑھ رہے تھے کئی خود کش حملہ آور ، امریکی ایئراسٹرائیک کا بنے نشانہ : افسران

    کابل ایئرپورٹ کی طرف بڑھ رہے تھے کئی خود کش حملہ آور ، امریکی ایئراسٹرائیک کا بنے نشانہ : افسران

    کابل ایئرپورٹ کی طرف بڑھ رہے تھے کئی خود کش حملہ آور ، امریکی ایئراسٹرائیک کا بنے نشانہ : افسران

    امریکہ نے پہلے ہی کابل ہوائی اڈہ پر مزید حملے ہونے کی وارننگ دی تھی ۔ امریکہ نے اتوار کو ایک اور ایئر اسٹرائیک کرکے خود کش حملہ آوروں کو نشانہ بنایا ۔ امریکہ کی جانب سے یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب کابل ایئرپورٹ پر انخلا کا کام چل رہا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : افغانستان کے کابل ایئرپورٹ کے پاس اتوار شام کو ایک رہائشی علاقہ میں راکٹ سے حملہ ہوا ۔ اس حملہ میں ایک بچے سمیت تین لوگوں کی موت ہوگئی ہے ۔ امریکی افسران نے اس حملے کے بعد جانکاری دی کہ امریکہ نے ایک مرتبہ پھر ایئر اسٹرائیک کی ہے اور اس اسٹرائیک میں ایک خودکش حملہ آور کو نشانہ بنایا گیا تھا جو کہ کابل ایئرپورٹ کو اڑانے کی کوشش میں تھا ۔

      بتادیں کہ امریکہ نے پہلے ہی کابل ہوائی اڈہ پر مزید حملے ہونے کی وارننگ دی تھی ۔ امریکہ نے اتوار کو ایک اور ایئر اسٹرائیک کرکے خود کش حملہ آوروں کو نشانہ بنایا ۔ امریکہ کی جانب سے یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب کابل ایئرپورٹ پر انخلا کا کام چل رہا ہے ۔

      دو امریکی افسران نے رائٹرس کو بتایا کہ کئی خود کش حملہ آور کابل ہوائی اڈہ کی جانب بڑھ رہے تھے اور کسی بھی طرح کی انہونی اور حادثہ کو ٹالنے کیلئے ایک مرتبہ پھر سے فوجی کارروائی کی گئی ہے ۔ افسران نے کہا کہ فی الحال ابھی کابل ہوائی اڈ پر کسی بھی طرح کے خطرے کو ٹال دیا گیا ہے ۔

      بتادیں کہ جمعرات کو کابل ایئر پورٹ پر لگاتار تین دھماکے ہوئے تھے ۔ ان دھماکوں میں امریکہ کے 13 فوجیوں سمیت 169 افراد کی موت ہوگئی تھی ۔ اس کے بعد امریکہ نے اس کا بدلہ لیتے ہوئے ہفتہ کی صبح افغانستان میں موجود اسلامک اسٹیٹ کے کئی علاقوں میں ڈرون سے حملہ کیا تھا ۔ امریکہ نے دعوی کیا تھا کہ اس حملہ میں اسلامک اسٹیٹ کے دو اہم دہشت گرد مارے گئے تھے ۔

      امریکی صدر جو بائیڈن نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ کابل ہوائی اڈے پر مزید خود کش حملے ہوسکتے ہیں ۔ امریکہ نے وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو کابل ایئرپورٹ سے دور رہنے کیلئے کہا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: