உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسجدنبوی  پر خود کش حملہ کرنے والا ملعون دہشت گرد منشیات کا عادی ایک سعودی  شہری تھا

    سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق مسجد نبویؐ کے قریب خودکش دھماکہ کرنے والا 26 سالہ دہشت گردسعودی شہری تھا جو منشیات کا عادی تھا

    سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق مسجد نبویؐ کے قریب خودکش دھماکہ کرنے والا 26 سالہ دہشت گردسعودی شہری تھا جو منشیات کا عادی تھا

    سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق مسجد نبویؐ کے قریب خودکش دھماکہ کرنے والا 26 سالہ دہشت گردسعودی شہری تھا جو منشیات کا عادی تھا

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      دبئی : سعودی عرب کے مدینہ شہر میں مسجد نبویؐ کے قریب خودکش دھماکہ کرنے والا ملعون دہشت گرد سعودی شہری تھا۔  سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق مسجد نبویؐ کے قریب خودکش دھماکہ کرنے والا 26 سالہ دہشت گردسعودی شہری تھا جو منشیات کا عادی تھا۔
      پانچ جولائی کو ہوئے تین خود کش حملوں کی تحقیقات کے سلسلے میں اب تک 19 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے بارہ پاکستانی شہری ہیں۔  حملہ آور مسجدنبویؐ کے قریب پارکنگ والی جگہ سے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ جب سیکورٹی گارڈ نے اسے روکا تو اس نے خود کو اڑا لیا جس میں چار سیکورٹی
      اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔
      غور طلب ہے کہ پانچ جولائی کو سعودی عرب کے تین شہروں میں خود کش حملے کئے گئے تھے۔ پہلا حملہ جدہ میں امریکی قونصل خانے کے باہر، دوسرا شیعہ اکثریتی علاقے  قطیف مارکیٹ میں اور تیسرا مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب کیا گیا تھا۔
      سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق قطیف مارکیٹ میں حملہ کرنے والا 23 سالہ رحمان عمر، 20 سالہ ابراہیم عمر اور 20 سالہ عبدالکریم حسن شامل تھا۔ اس سے پہلے سعودی عرب کے حکام نے کہا تھا کہ جدہ میں امریکی قونصل خانے کے باہر خودکش دھماکہ کرنے والا دہشت گرد پاکستانی تھا لیکن پاکستانی وزارت داخلہ نے فی الحال اس بات کی تصدیق سے انکار کیا ہے۔
      حملہ آور کا نام عبداللہ گلزار خان ہے جو ایک پاکستانی شہری ہے اور بارہ سال پہلے ڈرائیور کی نوکری کرنے کے لئے سعودی عرب آیا تھا۔
      First published: