ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Coronavirus: ماسک اور انسانی دوری نے بچوں کے مدافعتی نظام کو کردیاہے کمزور: رپورٹ

ماہرین ریسپریسیٹری نسینٹل وائرس (Respiratory Syncytial Virus ) کے بارے میں بھی فکر مند ہیں ، جو ایک ایسا وائرس ہے جس سے پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن ہوتا ہے اور بعض اوقات ایک سال سے کم عمر کے بچوں میں بھی موت واقع سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے لئے کوئی ویکسین نہیں ہے۔

  • Share this:
Coronavirus: ماسک اور انسانی دوری نے بچوں کے مدافعتی نظام کو کردیاہے کمزور: رپورٹ
ایک خاتون معصوم بچے کے ساتھ پہنچی ممبئی کے ویکسی نیشن سینٹر

انگلینڈ میں ماہرین کا خیال ہے کہ کووڈ 19 بحران کی وجہ سے انسانی دوری اور ماسک کو استعمال کرنے سے بہت سوں کو بچایا جاسکتا ہے، لیکن ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ انسانی دوری اور ماسک نے بچوں میں مدافعتی نظام کو بھی کمزور کردیا ہے۔


ان کے بقول پچھلے 15 مہینوں سے بچوں میں وائرل پیتھوجینز (viral pathogens) کے ساتھ زبردست مقابلہ نہیں ہوا ہے ، جس کی وجہ سے وہ موسمی فلو (seasonal flu) میں مبتلا ہیں۔ اس کے نتیجے میں وبا کے بعد ان کے جسم کیڑے سے لڑنے کے لئے استثنیٰ پیدا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ماہرین ریسپریسیٹری نسینٹل وائرس (Respiratory Syncytial Virus ) کے بارے میں بھی فکر مند ہیں ، جو ایک ایسا وائرس ہے جس سے پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن ہوتا ہے اور بعض اوقات ایک سال سے کم عمر کے بچوں میں بھی موت واقع سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے لئے کوئی ویکسین نہیں ہے۔


علامتی تصویر
علامتی تصویر


ماہرین نے بتایا کہ کووڈ سے پہلے کے دنوں میں ریسپریسیٹری نسینٹل وائرس (Respiratory Syncytial Virus ) دوسرے موسمی مسئلے سے زیادہ بچوں کو اسپتال لایا گیا تھا۔ تاہم ماسک اور انسانی فاصلے نے وبائی امراض کے دوران بچوں کو بیماری سے بچنے سے دور رکھا۔

لیکن معمول کی طرف لوٹنے کے ساتھ RSV زیادہ مہلک ہوسکتا ہے۔ بچے اس بیماری کو پھر سے پکڑیں ​​گے کیونکہ ماسک ، انسانی دوری اور کووڈ سے وابستہ دوسرے پروٹوکول بالآخر ختم کردیئے جائیں گے۔خبر کی اطلاع کے مطابق پبلک ہیلتھ ویلز کے مشیر کلینیکل سائنسدان ڈاکٹر کیترین مورے (Dr Catherine Moore) نے کہا کہ ’’فلو مجھے پریشان کرتا ہے ، لیکن ایک ویکسین ہے اور اس وجہ سے اب بھی سب سے زیادہ کمزور افراد کو ویکسینوں تک رسائی حاصل نہیں ہوئی ہے‘‘۔

رپورٹ کے مطابق وبائی بیماری سے قبل آر ایس وی کی وجہ سے ہر سال 30000 سے زیادہ بچے اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو برطانیہ کے اسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا۔یونیورسٹی آف ناٹنگھم کے وائرسولوجی کے پروفیسر ولیم ارونگ (William Irving) نے اس نظریہ کی بازگشت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں گذشتہ موسم سرما میں فلو نہیں ملا، لہذا اگر اس آنے والی موسم سرما میں دوبارہ بات کی جائے تو یہ خاص طور پر خطرناک ہوسکتا ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jun 20, 2021 06:54 AM IST