உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان کے صوبہ ننگرہار صوبہ کی ایک مسجد میں دھماکہ، 12 زخمی

    افغانستان کے صوبہ ننگرہار صوبہ کی ایک مسجد میں دھماکہ، 12 زخمی

    افغانستان کے صوبہ ننگرہار صوبہ کی ایک مسجد میں دھماکہ، 12 زخمی

    افغانستان (Afghanistan) ننگرہار (Nangarhar) صوبہ میں جمعہ کو ایک مسجد میں دھماکہ کی اطلاع ملی ہے۔ اس دھماکہ میں کم از کم 12 لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ اس حادثہ کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan) ننگرہار (Nangarhar) صوبہ میں جمعہ کو ایک مسجد میں دھماکہ کی اطلاع ملی ہے۔ اس دھماکہ میں کم از کم 12 لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ اس حادثہ کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ ابھی کسی نے حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔

      اس سے پہلے بھی 15 اکتوبر کو قندھار (Kandahar’s Imam Bargah Mosque) کی امام بارگاہ مسجد میں بم دھماکہ ہوا تھا۔ افغان میڈیا کی طلوع نیوز کے مطابق، دھماکے میں 32 افراد سے زیادہ کے ہلاک ہوئے تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ مسجد کہ مسجد میں ایک کے بعد ایک تین دھماکے ہوئے۔ اس سے پہلے گزشتہ جمعہ کو شمالی افغانستان کی ایک شیعہ مسجد میں دھماکہ میں 100 سے زیادہ افراد کی موت ہوگئی تھی۔ دھماکہ ٹھیک اس وقت ہوا تھا، جب سینکڑوں لوگ نماز ادا کر رہے تھے۔

      اسلامک اسٹیٹ خراسان نے بم دھماکہ کی ذمہ داری لی تھی۔ آئی ایس نے خود کش حملہ آور کی شناخت ایک ایغور مسلم کے طور پر کی اور کہا کہ حملے میں شیعوں اور طالبان دونوں کو نشانہ بنایا گیا، جو چین سے ایغور مسلمانوں کے مطالبات کو پورا کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

      اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ کے بندوق برداروں کے ایک گروپ کے ذریعہ حملہ کیا گیا تھا، جن میں سے سبھی 15 منٹ کے اندر مارے گئے تھے۔ طالبان کے افغانستان پر اپنی جیت مکمل کرنے کے بعد بھی قتل اور دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ 15 اگست سے طالبان کا افغانستان پر کنٹرول ہے اور اس کے بعد عبوری حکومت بھی قائم ہوگئی ہے۔

      شیعوں کو کیوں بنایا نشانہ؟

      اسلامک اسٹیٹ گروپ کے مبینہ دہشت گردوں کی افغانستان کے شیعہ مسلم اقلیتوں پر حملہ کرنے کی لمبی تاریخ رہی ہے، جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، وہ ہزارا طبقے سے ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سنی اکثریتی ملک میں لمبے وقت سے بھید بھاو کا شکار بنتے رہے ہیں۔ یہ حملہ امریکہ اور ناٹو فوجیوں کی اگست کے آخر میں افغانستان سے واپسی اور ملک پر طالبان کے قبضے کے بعد ایک سنگین حملہ ہے۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: