ہوم » نیوز » عالمی منظر

حج کے منظم انتظامات سعودی حکومت کے خلاف پھیلائے جانے والے تمام جھوٹوں اور تہمتوں کا منہ توڑ جواب : خالد الفیصل

مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے بظاہر ایرانی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ رواں برس حج کے منظم انتظامات ’’سعودی حکومت کے خلاف پھیلائے جانے والے تمام جھوٹوں اور تہمتوں کا جواب ہیں

  • UNI
  • Last Updated: Sep 15, 2016 10:33 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
حج کے منظم انتظامات سعودی حکومت کے خلاف پھیلائے جانے والے تمام جھوٹوں اور تہمتوں کا منہ توڑ جواب : خالد الفیصل
مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے بظاہر ایرانی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ رواں برس حج کے منظم انتظامات ’’سعودی حکومت کے خلاف پھیلائے جانے والے تمام جھوٹوں اور تہمتوں کا جواب ہیں

دوبئی :  ایک اعلی سعودی سرکاری ذمہ دارر نے حج انتظامات پر ایرانی تنقید کے جواب میں ایران کو وارننگ دی ہے کہ وہ عربوں کے خلاف غلط رویہ ترک کر دے سعودی عرب کے خلاف طاقت کے کسی بھی استعمال سے باز رہے۔  مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے بظاہر ایرانی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ رواں برس حج کے منظم انتظامات ’’سعودی حکومت کے خلاف پھیلائے جانے والے تمام جھوٹوں اور تہمتوں کا جواب ہیں‘‘۔

بدھ کی شام سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے ) کی طرف سےشائع یہ الفاظ دراصل ایران اور سعودی عرب کے درمیان تلخ بیانات کے تبادلے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ برس حج کے موقعے پر بھگڈر کے باعث سینکڑوں حاجی ہلاک ہو گئے تھے، جن میں ایرانی حاجیوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔ اس پر ایران کی طرف سے سعودی انتظامات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایس پی اے کے مطابق پرنس خالد نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں ایرانی رہنماؤں کے حوالے سے کہاکہ ’’میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کی رہنمائی کرے اور عرب اور عراق میں، شام، یمن اور دنیا بھر میں اپنے ساتھی مسلمانوں کے خلاف انہیں غلط رویے اور حد سے گزرنے سے باز رکھے‘‘۔

پرنس خالد کا مزید کہنا تھاکہ بالفرض اگر وہ[ایران] ہم پر حملہ کرنے کے لیے کوئی فوج تیار کر رہا ہے، تو ہم آسانی سے کسی ایسے کا شکار نہیں بنیں گے، جو ہم پر جنگ مسلط کرتا ہے۔۔۔ ہم جب چاہیں، اللہ کی مدد سے، کسی بھی جارح کا جواب دیں گے اور اس مقدس زمین اور اپنے وطن کے تحفظ میں کوئی کسر اُٹھانہیں رکھیں گے۔ جب تک ہم میں سے کوئی ایک بھی زمین پر موجود ہے، کوئی بھی ہمارے ملک کے کسی حصے کی بے حرمتی نہیں کر سکتا۔

رائٹرکے مطابق ابھی تک کسی ایرانی رہنما نے بہر حال سعودی عرب کے ساتھ جنگ کی کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی ایران شاید ایسا چاہتا ہے۔ باوجودیکہ گزشتہ سال حج کے دوران پیش آنے والے سانحے اور پھر رواں برس کے آغاز میں سعودی عرب کی طرف سے شیعہ مذہبی رہنما نِمر النمر کو سزائے موت دیے جانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور سفارتی تعلقات بھی معطل ہیں۔

تلخ بیانات کا حالیہ سلسلہ رواں برس ایرانی زائرین کو حج کی اجازت نہ ملنے پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے سعودی حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد شروع ہوا تھا۔ تین دہائیوں کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ ایران سے زائرین حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب نہیں جا سکے۔
First published: Sep 15, 2016 10:32 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading