உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں جاں بحق ہونے والے صحافی دانش صدیقی کا ایکسرے اور میڈکل رپورٹ سے سنسنی خیز انکشاف

    Youtube Video

    ہندستانی فوٹو جرنلسٹ صحافی کی لاش کی نیوز 18 ںے پہلی بار تصاویر اور ایکسرے کے ساتھ ایک میڈیکل رپورٹ میں رسائی حاصل کی ہے جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اسے وحیشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    • Share this:
      ہندستانی فوٹو جرنلسٹ صحافی کی لاش کی نیوز 18 ںے پہلی بار تصاویر اور ایکسرے کے ساتھ ایک میڈیکل رپورٹ میں  رسائی حاصل کی ہے جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اسے وحیشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بس اتنا ہی نہیں بھاری گاڑی سے مسخ بھی کیا گیا ہے۔ دانش کے جسم کو نہ صرف گھسیٹا گیا بلکہ اسے بھاری گاڑی سےمسخ کیا گیا۔ میڈیکل رپورٹ میں اس بات کا  انکشاف ہوا ۔ پلٹزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی فوٹو صحافی دانش صدیقی نہ تو افغانستان میں گولہ باری میں پھنس کر مارے گئے اور نہ ہی ان کی ان واقعات کے دوران موت ہوگئی ، بلکہ طالبان کے ذریعہ ان کی شناخت کی تصدیق کرنے کے بعد ان کا بے 'دردی سے قتل' کیا گیا تھا ۔ امریکہ کی ایک میگیزن میں شائع ایک رپورٹ میں یہ دعوی کیا گیا ہے ۔ بتادیں کہ پلٹزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی (Danish Siddiqui) کی افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) نے 16 جولائی کو قتل کردیا تھا۔

      اب افسران کا کہنا ہے کہ ان کا قتل بے رحمی سے کیا گیا تھا۔ ان کی لاش کے ساتھ بے حد برا برتاؤ کیا گیا تھا۔ دانش صدیقی کو سال 2018 میں نیوز ایجنسی رائٹرس کے لئے کام کرنے کے دوران پلٹزر ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا تھا اور 16 جولائی کو پاکستان کی سرحد سے متصل افغانستان کے قصبے اسپین بولدک میں ان کا قتل کردیا گیا تھا۔ قتل کے وقت وہ افغان کی اسپیشل فورسیز کے ساتھ تھے۔

      ہندوستانی صحافی دانش صدیقی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں سپرد خاک

      جائے حادثہ کی تصاویر دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ان کے جسم پر چوٹ کے کئی زخم تھے لیکن اسی دن جب ان کی لاش ریڈ کراس کو سونپی گئی اور قندھار کے ایک اسپتال میں لے گئے تو اس دوران لاش بہت بری حالت میں تھی۔ یہ دعویٰ وہاں موجود دو ہندوستانی افسران اور دو افغانی صحت افسران کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

       قندھار میں موجود ایک صحت افسر کا کہنا ہے کہ دانش صدیقی کی لاش شہر کے اہم اسپتال میں رات 8 بجے پہنچی تھی۔ اس دوران بھی ان کے جسم پر پریس لکھی جیکیٹ تھی۔ لیکن ان کا چہرہ پہچاننا مشکل تھا۔

      قندھار میں موجود ایک صحت افسر کا کہنا ہے کہ دانش صدیقی کی لاش شہر کے اہم اسپتال میں رات 8 بجے پہنچی تھی۔ اس دوران بھی ان کے جسم پر پریس لکھی جیکیٹ تھی۔ لیکن ان کا چہرہ پہچاننا مشکل تھا۔


      نیویارک ٹائمس نے افغانستان میں موجود ہندوستانی افسران اور افغانی صحت افسران کی طرف سے مہیا کرائی گئی تصاویر کا کئی بار مطالعہ کیا ہے۔ اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دانش صدیقی کی لاش کے ساتھ برا برتاو کیا گیا تھا۔ ایک ہندوستانی افسر نے یہ بھی کہا ہے کہ دانش صدیقی کے جسم پر گولیوں کے ایک درجن سے زیادہ نشان تھے۔ ساتھ ہی ان کے چہرے اور سینے پر ٹائر کے بھی نشان تھے۔

      گولی لگنے کے بعد مسجد میں ٹھہرے تھے ہندوستانی جانباز فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی، طالبان نے زندہ پکڑ کرکیا قتل

      قندھار میں موجود ایک صحت افسر کا کہنا ہے کہ دانش صدیقی کی لاش شہر کے اہم اسپتال میں رات 8 بجے پہنچی تھی۔ اس دوران بھی ان کے جسم پر پریس لکھی جیکیٹ تھی۔ لیکن ان کا چہرہ پہچاننا مشکل تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سمجھ نہیں پائے تھے کہ لاش کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا ہے۔

      طالبان نے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی لاش کے ساتھ کی بربریت، جسم پر تھے گولیوں اور ٹائر کے نشان: رپورٹ

      وہیں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دانش صدیقی کی لاش کے ساتھ کسی بھی بربریت سے انکار کیا ہے۔ طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان کے جنگجووں کو یہ احکامات دیئے گئے ہیں کہ وہ کسی بھی لاش کے ساتھ احترام سے پیش آئیں اور اسے مقامی بزرگوں یا ریڈ کراس کو سونپ دیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: