உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فیس بک نے 1600 جعلی اکاونٹ کو کیا بند، فیک نیوز آپریشن کے تحت کررہے تھے کام

    فیس بک

    فیس بک

    گزشتہ مہینے ہی حکومت ہند نے گمراہ کن جانکاری پھیلانے والے یوٹیوب چینل، کئی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاونٹ پر پابندی لگائی تھی۔ یہ کارروائی انفارمیشن تکنیکی ایکٹ 2000 کی دفعہ 69 اے کے تحت کی گئی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Hyderabad
    • Share this:
      میٹا کی ملکیت والی فیس بک نے فیک اکاونٹ پر بڑا انکشاف کیا ہے۔ سوشل میڈیا کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین کے بارے میں روسی تشہیر کرنے کے لئے استعمال کیے گئے 1600 نقلی فیس بک اکاونٹ کے بڑے نیٹ ورک کو نکال دیا ہے۔ ان درجنوں سوشل میڈیا اکاونٹس اور ویب سائٹ سے روسی تشہیر کی جارہی تھی اور یوکرین کی جارحیت کے بارے میں غلط جانکاری پھیلائی جارہی تھی۔

      بتادیں کہ اس سے پہلے بھی میٹا کی ملکیت والی سوشل میڈیا ویب سائٹس نے ملک مخالف فرضی خبریں پھیلانے والے 60 سے زیادہ سوشل میڈیا اکاونٹ کو بلاک کیا تھا۔

      آپریشن میں 60 سے زیادہ فرضی ویب سائٹ بھی شامل
      فیس بک کا کہنا ہے کہ اس نے اس فیک ااپریشن کو ایک بڑے آڈینس تک پہنچانے سے پہلے ہی پہنچالیا اور اس سے متعلقہ اکاونٹس کو ریمو کردیا ہے۔ فیس بک نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس آپریشن میں 60 سے زیادہ فرضی ویب سائٹس بھی شامل ہیں، جو یونائٹیڈ کنگ ڈم کی دا گارجین اخبار اور جرمنی کے ڈیر اسپیگل جیسی ویب سائٹس کی نقل کر کے بنائی گئی ہیں۔ یہ ویب سائٹس بھی روسی تشہیر کررہی تھیں اور یوکرین کے بارے میں فیک نیوز پھیلارہی تھی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      فرانسیسی صدرایمانوئل میکرون کادورہ امریکہ،’فرانس ہماراقدیم ترین اتحادی‘ امریکی صدرجوبائیڈن

      یہ بھی پڑھیں:
      جئے شنکر سے امریکی وزیرکی ملاقات،ہند-امریکہ نے کیاتسلیم ’عالمی صورتحال انتہائی چیلنجنگ‘

      ہندوستان میں بھی فیک اکاونٹ پر لگائی گئی تھی پابندی
      گزشتہ مہینے ہی حکومت ہند نے گمراہ کن جانکاری پھیلانے والے یوٹیوب چینل، کئی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاونٹ پر پابندی لگائی تھی۔ یہ کارروائی انفارمیشن تکنیکی ایکٹ 2000 کی دفعہ 69 اے کے تحت کی گئی تھی۔ ان اکاونٹس پر ملک میں ایٹمی دھماکہ سے لے کر نارتھ کوریا کی جانب سے ایودھیا میں فوج بھیجنے تک کی فیک جانکاری پھیلائی جارہی تھی۔ بتادیں کہ یہ پابندیاں اکاونٹ اور یوٹیوب چینلوں میں لاکھوں وویوز والے ساتھ ہندوستانی اور ایک پاکستانی یوٹیوب چینل پر لگائی گئی تھیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: