اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ’امریکی کانگریس نے میڈیا بل منظور کیا تو پلیٹ فارم سے خبریں ہٹا دی جائیں گی‘ میٹا

    ’’وہ اس بل کو دفاعی بل میں شامل کرے‘‘۔

    ’’وہ اس بل کو دفاعی بل میں شامل کرے‘‘۔

    دو درجن سے زیادہ گروپوں بشمول امریکن سول لبرٹیز یونین، پبلک نالج اور کمپیوٹر اینڈ کمیونیکیشن انڈسٹری ایسوسی ایشن نے پیر کے روز کانگریس پر زور دیا کہ وہ میڈیا بل کو منظور نہ کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بل کی ضرورت نہیں ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • USA
    • Share this:
      فیس بک پیرنٹ کمپنی میٹا پلیٹ فارمز انکارپوریشن (Meta Platforms Inc) نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی کانگریس میڈیا بل کو پاس کرتی ہے، تو میٹا اپنے پلیٹ فارم سے خبریں ہٹا دے گا۔ اس بل کا مقصد خبر رساں اداروں کے لیے الفابیٹ انک کی گوگل اور فیس بک جیسی کمپنیوں کے ساتھ اجتماعی طور پر بات چیت کرنا آسان بنانا ہے۔ اس معاملے پر بریفنگ دینے والے ذرائع نے بتایا کہ امریکی کانگریس کے قانون ساز صحافیوں کے مقابلہ اور تحفظ کے ایکٹ کو سالانہ دفاعی بل میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ مقامی نیوز انڈسٹری کی جدوجہد میں مدد مل سکے۔

      میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اگر یہ قانون منظور کیا گیا تو کمپنی خبروں کو ہٹانے پر غور کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے کہ ہم نیوز آؤٹ لیٹس کو بڑھتی ہوئی ٹریفک اور سبسکرپشنز کے ذریعے فراہم کی جانے والی کسی بھی ذریعہ کو غیر منصفانہ طور پر نظرانداز کردیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس تجویز میں یہ بات تسلیم کرنے میں ناکامی ہوئی ہے کہ پبلشرز اور براڈکاسٹر پلیٹ فارم پر مواد ڈالتے ہیں کیونکہ اس سے ان کی نجی طور پر فائدہ ہوگا۔ ان کی صارفین ہمارے پیلٹ فارم سے رجوع ہوتے ہیں۔ اگر میڈیا بل کو منظور کیحا گیا تو ہم اپنے پلیٹ فارم سے خبروں کو نشر کرنا ہی چھوڑ دیں گے۔

      ایک اور تجارتی گروپ نیوز میڈیا الائنس ہے، جو اخبارات کے پبلشرز کی نمائندگی کرتا ہے، اس نے کانگریس پر زور دیا ہے کہ وہ اس بل کو دفاعی بل میں شامل کرے، اس نے یہ دلیل دی کہ مقامی اخبارات کے ذمہ داران بڑی ٹکنالوجی کے استعمال کی قابل نہیں ہوتی۔ اس لیے انھیں حکومت کی جانب سے مدد کی توقع ہوتی ہے۔ اگر کانگریس جلد کارروائی نہیں کرتی ہے تو ہم سوشل میڈیا کو امریکہ کا اصل مقامی اخبار بننے کی اجازت دینے کا خطرہ مول لیں گے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      دو درجن سے زیادہ گروپوں بشمول امریکن سول لبرٹیز یونین، پبلک نالج اور کمپیوٹر اینڈ کمیونیکیشن انڈسٹری ایسوسی ایشن نے پیر کے روز کانگریس پر زور دیا کہ وہ میڈیا بل کو منظور نہ کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بل کی ضرورت نہیں ہے۔

      وہیں مذاکرات یا ثالثی کے ذریعے حاصل ہونے والے فنڈز صحافیوں کو بھی ادا کیے جانے چاہیے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: