உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہسا امینی کا سی ٹی اسکین آیا سامنے، کیا پولیس کی پٹائی سے ہوئی تھی موت: پڑھئے پوری رپورٹ

    CT Scan of Mahsa Amini: مہسا امینی کا سی ٹی اسکین ایران کے سرکاری میڈیا نے شیئر کیا، اس میں اس کی موت کی وجہ بتانے کے ساتھ ساتھ اسلامی ملک میں فسادات بھڑکانے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔

    CT Scan of Mahsa Amini: مہسا امینی کا سی ٹی اسکین ایران کے سرکاری میڈیا نے شیئر کیا، اس میں اس کی موت کی وجہ بتانے کے ساتھ ساتھ اسلامی ملک میں فسادات بھڑکانے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔

    CT Scan of Mahsa Amini: مہسا امینی کا سی ٹی اسکین ایران کے سرکاری میڈیا نے شیئر کیا، اس میں اس کی موت کی وجہ بتانے کے ساتھ ساتھ اسلامی ملک میں فسادات بھڑکانے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • INTER, IndiaIranIran
    • Share this:
      تہران۔ ایران میں حجاب کو لیکر حراست میں لی گئی طالبہ مہسا امینی کی موت کو 12 دن گزر جانے کے بعد بھی حالات قابو میں نہیں آ سکے۔ ایران کی حکومت نے موت کے بعد ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے درمیان امینی کی میڈیکل رپورٹ شیئر کی ہے۔ امینی کا سی ٹی اسکین ایران کے سرکاری میڈیا نے شیئر کیا، اس میں اس کی موت کی وجہ بتانے کے ساتھ ساتھ اسلامی ملک میں فسادات بھڑکانے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔

      امینی کی میڈیکل رپورٹ کیا کہتی ہے؟
      ایرانی میڈیا کے مطابق، فارنسک  ڈاکٹروں کو امینی کی کھوپڑی یا جسم پر چوٹ، سوجن یا فریکچر کے کوئی نشان نہیں ملے ہیں۔ اسی دوران صوبہ تہران میں فارنسک  میڈیسن کے ڈائریکٹر جنرل مہدی فروزش نے کہا کہ مہسا امینی کے پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا ہے کہ لڑکی کے اندرونی اعضاء میں خون نہیں بہہ رہا تھا۔ سی ٹی اسکین میں بھی کہا گیا ہے کہ امینی کے جسم پر زخم کے نشانات نہیں تھے۔ تاہم ڈاکٹروں کی ٹیم کا کہنا تھا کہ امینی کی موت کی واضح وجہ جاننے کے لیے فی الحال مزید وقت درکار ہے۔

      2006 میں دماغ کی سرجری ہو چکی تھی
      تہران کی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امینی کی دماغی سرجری ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ کوما میں چلی گئی ہو۔ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں کہا گیا ہے کہ حجاب پر مہسا امینی اور پولیس افسر کے درمیان جھگڑے کے بعد لڑکی موقع پر ہی بیہوش ہو گئی تھی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ بیہوش ہونے کے بعد بچی کے کومے میں جانے کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔ ایران کے مطابق سعودی اور مغربی ممالک امینی کی موت کا بہانہ بنا کر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

      40 سے زائد افراد کی موت

      حجاب کے خلاف بڑھتے ہوئےتشدد کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس بھاری طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ ایران میں ہونے والے حجاب مخالف مظاہروں میں کئی خواتین حجاب کو آگ لگاتی نظر آرہی ہیں، جس کی وجہ سے پولیس مظاہرین پر مسلسل آنسو گیس اور گولیاں چلا رہی ہے۔ سرکاری میڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک 41 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: