உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایرانی پولیس کی مظاہرہ کرنے والی خواتین پر گولیوں کی بارش، اب تک 50 کی موت

     Death of Mahsa Amini: اب پولیس کی بربریت سے 20 سالہ لڑکی کی موت نے مظاہروں کی آگ کو ہوا دی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے شخص کی شناخت ہادیس نجفی کے نام سے ہوئی ہے، جس نے مظاہرے کے دوران حجاب نہیں پہن رکھا تھا۔

    Death of Mahsa Amini: اب پولیس کی بربریت سے 20 سالہ لڑکی کی موت نے مظاہروں کی آگ کو ہوا دی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے شخص کی شناخت ہادیس نجفی کے نام سے ہوئی ہے، جس نے مظاہرے کے دوران حجاب نہیں پہن رکھا تھا۔

    Death of Mahsa Amini: اب پولیس کی بربریت سے 20 سالہ لڑکی کی موت نے مظاہروں کی آگ کو ہوا دی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے شخص کی شناخت ہادیس نجفی کے نام سے ہوئی ہے، جس نے مظاہرے کے دوران حجاب نہیں پہن رکھا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • INTER, IndiaIranIran
    • Share this:
      Protests in Iran: تہران۔ ایران میں حجاب پہننے پر حراست میں لیے جانے والی طالبہ کی موت کو دس دن گزر جانے کے بعد بھی حالات قابو میں نہیں آئے۔ اب پولیس کی بربریت سے 20 سالہ لڑکی کی موت نے مظاہروں کی آگ کو ہوا دی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے شخص کی شناخت ہادیس نجفی کے نام سے ہوئی ہے، جس نے مظاہرے کے دوران حجاب نہیں پہن رکھا تھا۔ لڑکی کی بہن نے ایک امریکی کارکن کو بتایا تھا کہ وہ بدھ کے روز سکیورٹی فورسز کی گولی لگنے سے موت و گئی۔ متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق لڑکی کو سر اور گردن میں 6 گولیاں ماری گئیں۔ گولی لگنے کے بعد مقتول کی تصویر دن بھر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہی۔

      40 سے زائد افراد ہلاک
      حجاب کے خلاف بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس بھاری طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ ایران میں ہونے والے حجاب مخالف مظاہروں میں کئی خواتین حجاب کو آگ لگاتی نظر آرہی ہیں، جس کی وجہ سے پولیس مظاہرین پر مسلسل آنسو گیس اور گولیاں چلا رہی ہے۔ سرکاری میڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک 41 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ تاہم کئی آزاد تنظیموں کا اندازہ ہے کہ پولیس کی فائرنگ میں کم از کم 50 افراد مارے گئے ہیں۔ ان مظاہروں میں دیس نجفی، غزالہ چیلاوی، حنا کیا اور مہشا موگوئی کی ہلاکتیں سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی رہیں۔


      ایران نے ناروے کے سفیر کو اپنی پارلیمنٹ کے اسپیکر مسعود گھرخانی کے تبصرے پر طلب کیا ہے جس میں ملک میں ہونے والے مظاہروں میں عوام کی حمایت کی گئی ہے۔ تہران میں پیدا ہونے والے گھرخانی نے اتوار کے روز ٹوئٹر پر لوگوں کے ساتھ مل کر لکھا کہ اگر ان کے والدین نے 1987 میں بھاگنے کا انتخاب نہ کیا ہوتا تو وہ بھی اس وقت سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں میں شامل ہوتے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ حجاب کے حوالے سے ایران کے کرد آبادی والے شمال مغربی علاقوں سے شروع ہونے والے یہ مظاہرے دارالحکومت اور کم از کم 50 شہروں اور قصبوں تک پھیل چکے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: