உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Taliban Crisis: ایران اور طالبان کے درمیان اختلافات میں اضافہ، تہران نے بند کئے تمام قونصلر سروس

    ایران اور طالبان کے درمیان اختلافات میں اضافہ، تہران نے بند کئے تمام قونصلر سروس

    ایران اور طالبان کے درمیان اختلافات میں اضافہ، تہران نے بند کئے تمام قونصلر سروس

    ایران کے وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ طالبان تہران کے سفارت کاروں کی سیکورٹی کے لئے ذمہ دار ہے۔ وزارت خارجہ نے اگلی اطلاع تک افغانستان میں اپنے سبھی قونصلر خدمات کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔

    • Share this:
      تہران: افغانستان میں طالبان (Taliban Crisis) کے اقتدار میں آنے کے بعد کابل کے پاکستان اور ایران کے تعلقات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ تازہ اپڈیٹ یہ ہے کہ ایران نے تہران میں افغانستان کے سفیر کو بلاکر کھری کھوٹی سنائی ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرس نے ایرانی سرکاری ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغانستان میں مظاہرین کے ذریعہ کابل اور ہیرات میں ایرانی سفارتی مشن پر پتھر پھینکے جانے کے ایک دن بعد ایران افغانستان میں سبھی قونصلر خدمات کو روک رہا ہے۔

      ایران میں افغانستان کے پناہ گزینوں کے زریعہ عام ایرانی لوگوں کے ذریعہ پریشان اور بے عزت کرنے کے بعد افغانستان میں ایران کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے۔ اس کے کئی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کئے جا رہے ہیں، لیکن ہندوستان ان ویڈیو کی تصدیق نہیں کرتا ہے۔ حالانکہ ایرانی افسران نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کے ساتھ غلط برتاو ہوا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Pakistan میں 5 شادیوں والے شہباز شریف کے طور پر جانے جاتے ہیں پڑوسی ملک کے نئے وزیر اعظم

      ایران کے وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ طالبان تہران کے سفارت کاروں کی سیکورٹی کے لئے ذمہ دار ہے۔ وزارت خارجہ نے اگلی اطلاع تک افغانستان میں اپنے سبھی قونصلر خدمات کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔

      حالانکہ، عام طور پر ایران اور افغانستان کے درمیان تعلقات ٹھیک رہے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان 900 کلو میٹر کے بارڈر پر لمبے وقت سے کشیدگی ہے۔ افغانستان سے منشیات کو لے کر ایران بے حد الرٹ رہتا ہے۔ حال ہی میں ایران کے وزیر خارجہ عبداللہ ہین نے بتایا تھا کہ ایران میں پانچ لاکھ سے زیادہ افغان شہری بغیر ڈاکیومنٹس اور ڈاکیومنٹس کے ساتھ رہتے ہیں۔ (ایجنسی اِن پُٹ)
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: