ہوم » نیوز » عالمی منظر

منی سانحہ کے لئے سعودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط: اردوغان

نئی دہلی۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے منی میں بھگدڑ مچ جانے سے ہونے والی ہلاکتوں پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس المناک حادثہ کے لئے سعودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے۔

  • News18
  • Last Updated: Sep 26, 2015 03:59 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
منی سانحہ کے لئے سعودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط: اردوغان
نئی دہلی۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے منی میں بھگدڑ مچ جانے سے ہونے والی ہلاکتوں پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس المناک حادثہ کے لئے سعودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے۔

نئی دہلی۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے منی میں بھگدڑ مچ جانے سے ہونے والی ہلاکتوں پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا  کہ اس المناک حادثہ کے لئے سعودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے۔ انقرہ میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران اردوغان نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف مخالفت پر مبنی ان بیانات سے میں متفق نہیں ہوں۔


انگریزی اخبار عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ترکی صدر نے کہا کہ اس معاملہ میں سعودی عرب پر انگلی اٹھانا غلط ہو گا۔ کیونکہ سعودی عرب حج کا نظم ونسق بحسن وخوبی سنبھال رہا ہے۔


واضح رہے کہ اردوغان کا یہ بیان منی میں بھگدڑ سے ہونے والی ہلاکتوں کے سلسلہ میں ایران کی جانب سے سعودی عرب کو موردالزام ٹھہرائے جانے کے پس منظر میں آیا ہے۔ ایران نے بھگدڑ کا سبب سعودی عرب کے حکام کی نااہلی اور غفلت کو بتایا ہے۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے منی سانحہ کے لئے سعودی عرب کے حکام کو ذمہ دار قرار دیا اور ملک میں تین دن تک عام سوگ اور عزا کا اعلان کیا ہے۔ اس سانحہ میں ایران کے ایک سو اکتیس عازمین حج جاں بحق اور دیگر ساٹھ زخمی ہوئے ہیں۔


وہیں العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق، تقریباً تین سو ایرانی عازمین حج کی الٹے پاوں واپسی بھگدڑ کا سبب بنی۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ میں ایرانی حج مشن کے ایک افسر کے حوالہ سے کثیر الاشاعت عربی اخبار الشرق الاوسط کے اس انکشاف کا حوالہ دیا گیا ہے کہ تقریباً تین سو ایرانی حجاج نے اسمبلی پوائنٹ سے متعلق ہدایات پرعمل نہیں کیا اور انہوں نے الٹے پاوں جمرات سے واپسی کی کوشش کی جس سے یہ حادثہ رونما ہوا۔

ایرانی افسر کے مطابق، ان حاجیوں نے رمی ختم ہونے کا انتظار نہیں کیا جو کہ معمول کی ہدایات کی روشنی میں کیا جاتا ہے اور اس کے برعکس الٹے پاوں واپسی کر دی۔ واپسی کا یہ وقت دوسرے حج مشن کے لئے رمی جمرات کی غرض سے نکلنے کے لئے مخصوص تھا جس کی وجہ سے عازمین ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔

خیال رہے کہ منیٰ سانحہ کے بعد سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے حج منصوبہ پر نظرثانی کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے اس اندوہناک واقعہ کی فوری جانچ کا بھی حکم دیا ہے۔  شاہ سلمان نے شہید عازمین حج کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے  اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

 

 
First published: Sep 26, 2015 03:59 PM IST