உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم مماللک کی تنظیم او آئی سی پر ہندوستان کا پلٹ وار، کہا- ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں

    مسلم مماللک کی تنظیم او آئی سی پر ہندوستان کا پلٹ وار، کہا- ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں

    مسلم مماللک کی تنظیم او آئی سی پر ہندوستان کا پلٹ وار، کہا- ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں

    مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی نے ہندوستان کے صوبہ آسام سے متعلق ایک ٹوئٹ کیا، جس کے بعد ہندوستان نے سخت رخ اپناتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ ہندوستان نے ’یہاں یہ دوہرایا کہ او آئی سی کو ہندوستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسے اپنے اسٹیج کو ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہیں ہونے دینا چاہئے‘۔

    • Share this:
      نئی دہلی: آسام (Assam) کے حادثہ پر اسلامک ممالک کی تنظیم ’آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن‘ (OIC) کی تنقید کے بعد ہندوستان (India) نے سخت بیان دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی (Ministry of External Affairs (MEA) Spokesperson Arindam Bagchi) نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان انتہائی افسوس کے ساتھ یہ بتانا چاہتا ہے کہ او آئی سی نے ہندوستان کے داخلی معاملے میں ایک بار پھر تبصرہ کیا ہے، جس میں اس نے ہندوستان کی ریاست آسام کے ایک افسوسناک واقعہ کے حوالے سے در حقیقت میں غلط اور گمراہ کن بیان جاری کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کا ملک اس سے متعلق مناسب قانونی کارروائی کر رہا ہے۔



      ہندوستان نے او آئی سی کے خلاف اپنایا سخت رویہ

      ہندوستان نے کہا، ’یہاں یہ دوہرایا جاتا ہے کہ او آئی سی کو ہندوستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسے اپنے اسٹیج کو ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہیں ہونے دینا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہندوستانی حکومت ان سبھی بے بنیاد بیانات کو مسترد کرتی ہے۔ امید کرتی ہے کہ اس طرح کے بیان مستقبل میں نہیں دیئے جائیں گے‘۔

      او آئی سی نے کیا کہا تھا؟

      آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (او آئی سی) کے جنرل سکریٹری نے ٹوئٹ کرکے کہا تھا کہ ان کی تنظیم آسام میں منظم ہراسانی اور تشدد کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے ریاست سے سینکڑوں مسلم خاندانوں کو بے دخل کرنے کی مہم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کے دوران ہوئے تشدد میں کئی اقلیتی افراد کے ہلاک ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ اس حادثہ کا ایک ویڈیو بھی وائرل ہوا تھا۔

      آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (او آئی سی) دنیا کے مسلم ممالک کا رہنما ہے۔ 25 ستمبر 1969 میں قائم ہوئی اس تنظیم کا پاکستان بانی رکن ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والا ہندوستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان آغاز سے ہی اس تنظیم کا استعمال ہندوستان کے خلاف کرتا آیا ہے۔ خاص طور پر موضوع کشمیر موضوع پر کئی بار او آئی سی نے ہندوستان کے خلاف بیان دیا ہے۔ حالانکہ سال 2014 میں مودی حکومت بننے کے بعد سے ہندوستان سے متعلق تنظیم کے تیور کافی نرم دیکھنے کو ملے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: